کٹھوعہ: بی جے پی رہنماﺅں کا صحافی پر بہیمانہ تشدد، صحافیوں کا واقعے کے خلاف شدید احتجاج
جموں: بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بی جے پی رہنماﺅں نے ضلع کٹھوعہ میں ایک احتجاجی مظاہرے کے ایک سینئر صحافی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بی جے پی والے ضلع کٹھوعہ کے کالی باڑی چوک میں پہلگام واقعے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے کہ ایک سینئر رپورٹر راکیش شرما نے پارٹی رہنماﺅں سے سیکورٹی سے متعلق ایک سوال کیا جس پر دیویندر منیال، راجیو جسروٹیا ، بھارت بھوشن اور دیگر رہنما بھڑک اٹھے اور راکیش کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔ واقعے کی ایک ویڈیو میں سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں بی جے پی رہنماﺅں کو راکیش پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ راکیش پر اس قدر تشدد کیا گیا کہ اسے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔
سینئر صحافیوں کے ایک گروپ نے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس،کٹھوعہ شوبھت سکسینہ سے ملاقات کی اور بی جے پی رہنماﺅں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور ان کی گرفتاری سمیت مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا۔صحافیوں نے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھے کٹھوعہ کے شہیدی چوک میں واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور ملزمان کیخلاف کارروائی تک بی جے پی کے تمام پروگراموں کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا۔
صحافیوں نے جموں میں پریس کلب کے باہر بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔
دریں اثنا، پردیش کانگریس کمیٹی نے صحافی شرما پر تشددکی سخت مذمت کی اور کہا کہ اس کا جرم صرف یہ تھا کہ اس نے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں سیکورٹی کی صورتحال پر کچھ سوالات کیے تھے۔







