مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارت میں زیر تعلیم سینکڑوں کشمیری طلباء وطن واپس آنے پر مجبور

سرینگر: پہلگام واقعے کے بعد بھارت میں خاص طوپربی جے پی کے زیر اقتدربھارتی ریاستوں اتر پردیش، اتراکھنڈ، گجرات، مہاراشٹرا اور کرناٹک میںکشمیری طلبا ء کو ہراساں کرنے، دھمکیاں دینے اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے بعد کشمیری طلباء تعلیم کو چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپس جانے پر مجبور ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری طلبا ء جو اپنے گھروں سے دور بھارت کے مختلف شہروں میںتعلیم حاصل کر رہے ہیں، خوف کی لپیٹ میں ہیںاور بہت سے اپنی سلامتی سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث کشمیر واپس جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ہندو انتہاپسندوں کے حملوں اور ہراساں کیے جانے کے خوف سے سینکڑوں کشمیری طلباء اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے ہیں۔اتراکھنڈ میں صورتحال خاصی سنگین ہے جہاں ہندو انتہاپسندتنظیمیں کشمیری طلباء کو براہ راست دھمکیاں دے رہی ہیں جس سے بڑے پیمانے پر خوف و ہراس پھیل گیا ہے اورکشمیری طلبا اپنی سلامتی کے لئے تعلیمی ادارے چھوڑ رہے ہیں۔ خوف صرف جسمانی نقصان کا نہیں بلکہ مسلسل حملے کے خطرے میں رہنے سے طلباء نفسیاتی طورپر متاثر ہورہے ہیں۔ماہرین تعلیم نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت بھر کی یونیورسٹیوں پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیری طلباء کے امتحانات دو سے تین ہفتوں کے لئے ملتوی کرنے پر غور کریں۔ بہت سے کشمیری طلباء نے کہاکہ اس طرح کے معاندانہ ماحول میں امتحانات کی مناسب تیاری کرنا ان کے لیے تقریبا ناممکن ہو گا۔ ان کی پڑھائی میں رکاوٹ صرف تعلیمی ہی نہیں بلکہ ذاتی بھی ہے کیونکہ انہیں خوف میں رہنے کے صدمے کا سامنا ہے۔کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کشمیری طلباء پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ملک کے مختلف علاقوں میں غیر منصفانہ طور پر حملوں کانشانہ بنایا جا رہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button