صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش سے مسئلہ کشمیر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے, سردار مسعود خان
مظفرآباد:
آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے ثالثی کی پیشکش نے مسئلہ کشمیر کو دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنادیاہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سردار مسعود خان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا یہ کہنا درست تھا کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے کیونکہ بھارت خودہی خون بہا رہا ہے اور پانی روک رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم مودی آزاد کشمیر اور دہشت گردی پر مذاکرات کرنے کے خواہشمند ہیں تو وہ انہیں خوش آمدید کہاجائے گاتاہم انہیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ آزاد کشمیر ایک آزاد خطہ ہے۔جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر پربھارت نے کشمیری عوام کی خواہشات کے برخلاف غیر قانونی طورپر قبضہ کر رکھا ہے ۔دہشت گردی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بھارت کو بلوچستان جیسے خطوں کو غیر مستحکم کرنے اور پاکستان کے مختلف حصوں میں دہشت گرد نیٹ ورک چلانے پر جوابدہ ہونا چاہیے۔مسعود خان نے کہا کہ مودی کے حالیہ بیانات نے پاکستان کے اس دیرینہ موقف کی توثیق کی ہے کہ بھارت پاکستان میں بالخصوص بلوچستان میں دہشت گردی میں سرگرم عمل ہے ۔پہلگام واقعے کے بعد پاکستان اور آزاد کشمیر میں حالیہ بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں سے پاکستان کو بھارت کے اندر ان تنصیبات کو نشانہ بنانے کاجوز مل گیا ہے جہاں سے اسکے خلاف دہشت گردی کی کارروائی کی جارہی ہیں ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے تنازعہ کشمیر کے حل پر ثالثی کی پیشکش کاذکر کرتے ہوئے مسعود خان نے کہا کہ اگرچہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکہ نے اس طرح کی پیشکش کی ہے ۔اس سے قبل 2016اور 2019میں بھی امریکہ کی طرف سے اسای طر ح کی تجاویز سامنے آچکی ہیں ۔







