بھارت دھمکیوں، گمراہ کن بیانیوں اور طاقت کے استعمال سے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا: پاکستان

اسلام آباد:پاکستان نے کہاہے کہ بھارت دھمکیوں، گمراہ کن بیانیوں اور طاقت کے استعمال سے کبھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق دفترخارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں بھارتی قیادت کے پاکستان مخالف اشتعال انگیز بیانات کو خطرناک ذہنیت کی عکاسی قرار دیا ہے۔ انہوںنے واضح کیا کہ بھارت کا پاکستان کو عدم استحکام کا ذمے دار ٹھہرانا حقائق کے منافی ہے،بھارت دھمکیوں، گمراہ کن بیانیوں اور طاقت کے استعمال سے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔ بھارتی قیادت کی جانب سے حالیہ دنوں میں بالخصوص بہار میں دیے گئے اشتعال انگیز بیانات اور 29مئی 2025کو بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کی طرف سے دیے گئے بیان کے بارے میں میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی قیادت کے حالیہ بیانات ایک نہایت تشویشناک ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جو امن کے بجائے دشمنی کو ترجیح دیتی ہے۔ترجمان نے کہاکہ پاکستان کو خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوششیں حقیقت سے منہ موڑنے کے مترادف ہیں، عالمی برادری بخوبی آگاہ ہے کہ بھارت کا رویہ جارحانہ رہا ہے، جس میں پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے معاونت کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، ایسے حقائق کو کھوکھلے بیانیوں یا توجہ ہٹانے کی حکمت عملی سے چھپایا نہیں جا سکتا۔ترجمان نے کہا کہ تنازعہ جموں و کشمیر خطے میں امن اور استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، پاکستان اس دیرینہ تنازعے کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔ انہوں نے کہاکہ اس بنیادی مسئلے سے پہلو تہی کرنا خطے کو بداعتمادی اور ممکنہ تصادم میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان امن اور تعمیری بات چیت کے لیے پرعزم ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔ترجمان نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے سنجیدگی، بردباری اور تنازعات کی بنیادی وجوہات کے حل کی سنجیدہ کوششیں درکار ہیں، نہ کہ وقتی سیاسی فائدے حاصل کرنے کے لیے اشتعال انگیزی کا سہارا لیا جائے۔







