مقبوضہ جموں و کشمیر

لیفٹننٹ گورنر کا دفتر منتخب حکومت کے کام میں مسلسل مداخلت کررہا ہے : نیشنل کانفرنس

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں نیشنل کانفرنس نے نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے دفتر کی طرف سے منتخب حکومت کے کام میں مسلسل مداخلت پر شدید تشویش کااظہارکرتے ہوئے اسے غیر جمہوری اور غیر آئینی قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جموں خطے میں نیشنل کانفرنس کے صدر رتن لال گپتا نے ایک بیان میں کہا کہ اقتدارسنبھالنے کے آٹھ ماہ بعدبھی منتخب حکومت کو اختیارات واپس کرنے میں تاخیر سے ریاستی حیثیت کی بحالی میں بھارت کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے گورنر کا دفتر روز مرہ کے کام میں دخل اندازی کرتا رہتا ہے جس سے دوہرا نظام حکومت قائم ہوا ہے جو ادارہ جاتی الجھن اور انتظامی انتشار کا سبب بنتا ہے۔ گپتا نے کہاکہ اگر وزیر اعلیٰ کی زیرقیادت حکومت عوامی مفاد میں کچھ کرتی ہے تو لیفٹننٹ گورنر کے دفتر کو اس کی تعریف کرنی چاہیے لیکن ہوتا اس کے برعکس ہے۔ اس طرح کے اقدامات ایک غلط پیغام بھیجتے ہیں کہ لوگوں کے مینڈیٹ کو کمزور کیا جارہا ہے اور اس کی توہین کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت کو بغیر کسی تاخیر کے اختیارات کو واپس کرنا چاہیے اور منتخب حکومت کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دینی چاہئے۔ لوگوں کی خواہشات کو بیورو کریسی کے ذریعے یرغمال نہیں بنانا چاہئے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button