مقبوضہ کشمیر: بھارتی انتظامیہ نے مزید 4کشمیری مسلمانوں کی املاک ضبط کر لیں
سری نگر : بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی پولیس نے مزید چار کشمیری مسلمانوں کی جائیدادیں کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے تحت ضبط کر لی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پولیس نے نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی سربراہی میں قائم انتظامیہ کے حکم پر ضلع بانڈی پورہ کے علاقے پتو شاہی میں حاشر رفیق پرے نامی شہری کی 1کنال اور 18مرلے سے زائد اراضی اور 1رہائشی مکان ضبط کر لیا ہے ۔ جائیدار کی مالیت تین کروڑ 59لاکھ روپے بتائی جارہی ہے۔
دریں اثنا پولیس نے ضلع گاندر بل میں فاروق احمد راتھر، نور محمدپرے اور محمد مقبول صوفی کی 9کنال سے زائد رقبے پر مشتمل زرعی اراضی ضبط کر لی جس کی مالیت تین کروڑ بیس لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ مودی حکومت نے اگست 2019میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیری مسلمانوں کی زمینوں ، مکانوں اور دیگر املاک پر قبضے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے جسکا مقصد انہیں معاشی طور پر مفلوک الحال بنانا اور ضبط شدہ جائیدادیں غیر کشمیری بھارتی ہندوﺅں کو دیگر کو علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدل کرنا ہے۔








