لداخ پربھارت اور چین کے درمیان مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم

ladakh

نئی دہلی 11 اکتوبر (کے ایم ایس) لداخ میں تعطل پر بھارتی اور چینی فوجی کمانڈروں کے درمیان مذاکرات کا تازہ ترین دوربغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیاہے اوربھارتی فوج نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ چین کسی معاہدے پر تیار نہیں ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج کی طرف سے نئی دہلی میں میڈیا کے لئے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران بھارت نے دیگر علاقوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے تعمیری تجاویز دیں لیکن چین راضی نہیں تھا اور نہ ہی اس نے کوئی امید افزاءتجاویز پیش کیں۔بیان میں کہاگیا کہ فریقین نے باہمی روابط اور علاقے میں استحکام برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ہمیں توقع ہے کہ چین دوطرفہ تعلقات کے مجموعی تناظر کو مدنظر رکھے گا اور دوطرفہ معاہدے اور پروٹوکول پرمکمل طور پر عمل کرتے ہوئے باقی مسائل کے جلد حل کے لیے کام کرے گا۔ادھر چین نے کہاکہ بھارت غیر معقول اور غیر حقیقت پسندانہ مطالبات پر اصرار کررہا ہے جس سے مذاکرات میں مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ پیپلز لبریشن آرمی کے ترجمان نے کہا کہ چین قومی خودمختاری کے تحفظ کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت صورتحال کا غلط اندازہ لگانے سے گریز کرے گا اور چین بھارت سرحدی علاقوں میں موجودہ صورت حال کی قدرکرے گا۔ترجمان نے کہاکہ بھارت کو دونوں ممالک اور دو افواج کے مابین طے شدہ معاہدوں اور اتفاق رائے کی پاسداری کرنی چاہیے ، خلوص کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور چین کے ساتھ سرحدی علاقوں میں امن واستحکام کے مشترکہ تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہیے۔بھارت نے چین کے ساتھ فوجی مذاکرات کے 13 ویں دور میںجو اتوار کو تقریبا ساڑھے آٹھ گھنٹے تک جاری رہا، مشرقی لداخ کے تصادم والے علاقوں میں فوجیوں کی جلد واپسی کے لیے دباو¿ ڈالا تھا ۔بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق کور کمانڈر سطح پر ہونے والی بات چیت میں خاص توجہ مشرقی لداخ کے چشول مالڈو بارڈر پوائنٹ پرہاٹ اسپرنگس کے علاقے سے جسے پٹرولنگ پوائنٹ 15 (پی پی 15) کے طور پر جانا جاتا ہے، فوجیوں کی مکمل واپسی پر تھی۔یہ مذاکرات گزشتہ بات چیت کے آخری دور کے دو ماہ بعد ہوئے جس کے نتیجے میں گوگرا (پٹرول پوائنٹ -17 اے) سے فوجیوں کو واپس بلایاگیا تھا۔گوگرا مذاکرات کے نتیجے میں بھارت اور چین نے چھ فلیش پوائنٹس میں سے چار پرپیچھے ہٹنے پر اتفاق کیاتھا- دیگر پوئنٹس گلوان اور پینگونگ جھیل کے شمالی اور جنوبی کنارے تھے۔ ڈیپسانگ اور ہاٹ اسپرنگس میں تعطل جاری ہے۔بھارت اصرار کرتا رہا ہے کہ دیپسانگ سمیت تمام مسائل کا حل دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مجموعی بہتری کے لیے ضروری ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تازہ مذاکرات اتراکھنڈ کے بارہوتی سیکٹر اور اروناچل پردیش کے تاوانگ سیکٹر میںچینی فوجیوں کی طرف سے دراندازی کے دو حالیہ واقعات کے پس منظر میں ہوئے۔ اتراکھنڈ میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے تقریبا 100 سپاہیوں نے 30 اگست کو بارہوتی سیکٹر میں لائن آف ایکچول کنٹرول عبور کی اور کچھ گھنٹے گزارنے کے بعد علاقے سے واپس چلے گئے۔ بھارتی فوجی خاموش تماشائی بن کر دیکھتے رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: