بھارتی پولیس نے سرینگر میں ریاستی حیثیت کی بحالی کے لئے کانگریس کا مظاہرہ ناکام بنادیا
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیںبھارتی پولیس نے آج سرینگر میں کانگریس کی طرف سے نکالے گئے ایک احتجاجی مظاہرے کو ناکام بنا دیا جس کا مقصد علاقے کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر زوردینا تھا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق احتجاجی مظاہرے کی قیادت مقبوضہ جموں وکشمیر میںکانگریس کے صدر طارق حمید قرہ کررہے تھے۔کانگریس کے رہنما اور کارکنان اپنے مطالبات پیش کرنے کے لیے ڈویژنل کمشنر کے دفتر کی طرف مارچ کرنے کی غرض سے سرینگر میں پارٹی کے دفتر پرجمع ہوئے ۔ تاہم لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیرقیادت نئی دہلی کی مسلط کردہ انتظامیہ کی ہدایت پرپولیس نے مارچ کو روک لیااورپارٹی دفتر کے مرکزی دروازے کو سیل کر دیا۔ طارق قرہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کی اورکہاکہ ہم ریاستی حیثیت کی بحالی کے اپنے مطالبے کو دہرانا چاہتے تھے اور ایک یادداشت پیش کرنا چاہتے تھے لیکن پولیس نے ہمیں مارچ نکالنے سے روک دیا۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کے کئی لیڈروں کو کانگریس دفتر پہنچنے سے روک دیا گیا۔ہمیں اطلاع ملی ہے کہ ہمارے بہت سے رہنمائوں اور کارکنوں کو مختلف مقامات پر روک دیا گیا ہے اور انہیں یہاں پہنچنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ انتظامیہ کی جانب سے ایک غیر جمہوری عمل اوران کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔






