مضامین

کشمیر: ایک جنت جو جہنم بنا دی گئی

گزشتہ 78 برسوں سے بھارتی سامراج نے جس تسلسل سے کشمیری عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ہیں، اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ ظلم کی اس انتہا کے باوجود، کشمیریوں نے جس صبر، استقامت اور قربانی کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ انسانیت کا ایک روشن باب ہے۔ہر صبح کشمیریوں کے لیے ایک نئی آزمائش لے کر آتی ہے بھارتی درندوں کے لیے کشمیریوں کا خون، عزت اور جان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ۔ ان کے ظلم کی شدت اتنی ہے بربریت بھی یہاں شرم سار ہوتی ہے۔ ہو۔بھارت ابتدا ہی سے مسلمانوں اور انسانیت کا دشمن رہا ہے۔ وہ کشمیریوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیل رہا ہے، مگر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی نے بھارت کے ہاتھ اور بھی کھلے کر دیے ہیں۔ نہتے کشمیریوں پر مسلسل مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، ان کے بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، اور ان کے جان و مال کے ساتھ ساتھ ان کے مستقبل کو بھی تاریکی میں دھکیلا جا رہا ہے۔کشمیریوں کی نسل کشی، ان کے تشخص کا خاتمہ، اور ان کی سرزمین پر قبضہ بھارتی سامراج کا پرانا خواب ہے۔ سوال یہ ہے کہ کہاں گئے وہ انسان جو کسی جانور یا پرندے کے دکھ پر بھی تڑپ اٹھتے ہیں لیکن کشمیری عوام کی چیخ و پکار 78 برس سے عالمی ضمیر تک پہنچنے میں ناکام رہی۔ سب اندھے، بہرے اور گونگے بنے ہوئے ہیں ۔
جموں و کشمیر، جو جنت نظیرکہلایا جاتا ہے آج کشمیریوں کے لیے ایک قید خانہ بن چکا ہے۔ 5 اگست 2019 کو بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35A کو غیر آئینی طور پر منسوخ کیا، ،مقبوضہ ریاست کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا گیا۔ اس دن بھارت نے مقبوضہ وادی کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا۔ لاکھوں کشمیریوں کو گھروں میں محصور کر دیا گیا ایک ایسا لاک ڈان جو انسانیت کی تذلیل بن گیا۔بھارت نہ صرف کشمیری مسلمانوں کی اکثریتی آبادی سے خائف ہے، بلکہ اب وہ غیر ریاستی ہندو انتہا پسندوں کو لا کر جموں و کشمیر میں آباد کر رہا ہے تاکہ یہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل کر کے مقامی شناخت کو ختم کیا جا سکے۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔مودی حکومت کے یہ اقدامات بظاہر کامیاب نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ اس کی ناکامی اور بربادی کا آغاز ہے۔ اس نے طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش کی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کے سائے کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، سورج کی روشنی ان کو مٹا دیتی ہے۔کرونا وبا کے دوران جب دنیا چند ہفتوں کے لاک ڈاون سے تنگ آ گئی تھی، اس وقت بھی کشمیری 78 مسلسل ایک زندہ جیل میں قید تھے۔ نہ وہ آزاد ہیں، نہ ہی ان کے لیے موت کی آزادی میسر ہے۔ ان کے لیے زندگی ایک تلخ سزا بن چکی ہے۔ اس کے باوجود، ان کی جدوجہد، حوصلہ اور مزاحمت اپنی مثال آپ ہے۔
بھارتی سیاستدان پی چدم برم نے بھی اعتراف کیا کہ کشمیر آج ایک بڑی جیل میں بدل چکا ہے۔ نریندر مودی کی فسطائی حکومت کے 5 اگست کے اقدامات ناکامی سے دوچار ہو چکے ہیں۔ یہ دن تاریخِ کشمیر میں 27 اکتوبر 1947 کے بعد ایک اور سیاہ ترین دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے بالکل درست کہا کہ بھارت نے دفعہ 370 اور 35A ختم کر کے جموں و کشمیر کو بھارت کی دیگر ریاستوں کے برابر کرنے کی کوشش کی، تاکہ یہ تنازع ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا حصہ نہیں یہ اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے، جس کا فیصلہ کشمیری عوام کی مرضی اور استصواب رائے سے ہونا باقی ہے۔جب تک مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا، اس خطے میں امن و استحکام ایک خواب ہی رہے گا۔تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ طاقت کے بل بوتے پر کسی قوم کو ہمیشہ کے لیے غلام نہیں رکھا جا سکتا۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو آج بھارت خود انگریزوں کی غلامی میں ہوتا۔ کشمیری قوم کا مقدر آزادی ہے، اور ان شا اللہ وہ دن ضرور آئے گا جب یہ قوم اپنے حقِ خود ارادیت کو حاصل کر کے آزادی کی فضا میں سانس لے ۔

تحریر : محمد اقبال اویسی

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button