یوم استحصال کشمیر کے موقع پر ویبینار کا انعقاد
اسلام آباد:بھارتی حکومت کی جانب سے دفعہ 370کی منسوخی کے ذریعے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو چھ سال مکمل ہونے پر آج یوم استحصال کشمیر کے موقع پر ایک ویبینار کا انعقاد کیا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ویبنار کا اہتمام کشمیر میڈیا سروس نے کیا تھا اور اس میں ماہرین تعلیم، سول سوسائٹی کے ارکان، قانونی ماہرین اور ممتاز صحافیوں نے شرکت کی۔سینئر اینکر اور صحافی یاسر رحمان نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ سیشن کے آغاز پر کشمیری عوام کے عزم کو خراج تحسین پیش کیاگیا۔ شرکا ء نے انسانی حقوق کی جاری خلاف ورزیوں، آبادی کے تناسب میںتبدیلیوں، میڈیا بلیک آئوٹ اور خطے کے لوگوں کو سیاسی طورپر بے اختیارکرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ سماجی کارکن اور ماہر قانون سدرہ سدوزئی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اور ان کے حقوق کے لیے مہم چلانے والوں کو درپیش ذہنی اور جسمانی اذیتوں کی طرف توجہ مبذول کروائی۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر توجہ مرکوز رکھنے کے لئے آگاہی، نظم و ضبط اور حکمت عملی کے کردار پر زور دیا۔کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے شرکا ء کے عزم کو سراہتے ہوئے مسئلہ کشمیرکو اجاگر کرنے کے لیے وسیع تر اتحادکی ضرورت پر زور دیا۔ڈاکٹر راجہ زاہد خان نے کہا کہ کشمیر یوںکی آواز کو خاموش کیا جا رہا ہے اور اس کو دنیا تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے پاکستانی تارکین وطن کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ایڈووکیٹ ریحانہ علی نے بھارتی حکومت کے یکطرفہ اقدامات کو غیر آئینی، غیر قانونی اور بین الاقوامی سطح پرناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی۔ ۔ انہوں نے بین الاقوامی قانونی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا۔سیشن کے اختتام پر اس عزم کا اظہارکیاگیا کہ قانونی، تعلیمی، میڈیا کے شعبوں اور ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے لئے حمایت حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔







