صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو کی طرف سے آپریشن سندور کے دوران بھارت کی مکمل حمایت کی تصدیق
تل ابیب:
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے مئی میں آپریشن سندور کے دوران بھارت کو ہرممکن مدد فراہم کرنے کی تصدیق کی ہے، جب مودی حکومت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف بلااشتعال جارحیت کا ارتکاب کیاتھا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بینجمن نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاہے کہ انہوں نے جمعرات کومقبوضہ بیت المقدس میں بھارت کے سفیر جے پی سنگھ سے ملاقات کی اور اسرائیل اوربھارت کے درمیان خاص طور پر سیکورٹی اورمعاشی تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔اسرائیلی وزیراعظم نے کہاکہ ملاقات کے بعد انہوں نے سینئر بھارتی صحافیوں کے ایک گروپ سے بھی ملاقات کی اور ان کے سوالات کے جوابات دیے۔ایک بھارتی ٹی وی چینل کے مطابق، نیتن یاہو نے ملاقات میں رواں سال مئی میں پاکستان کے خلاف بھارت کی ناکام فوجی کارروائیوں کے دوران اسرائیلی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق کی۔انہوں نے بتایاکہ جنگ کے دوران اسرائیلی ساختہ HARPYڈرونز اور باراک 8 میزائل کواستعمال کیاگیا جنہیں بھارت کے ساتھ مشترکہ طور پر تیار کیا گیا ہے۔ٹی وی چینل نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ اسرائیل ان چند ممالک میں سے شامل ہے جس نے آپریشن سندور کی حمایت کی تھی۔








