بھارت

تری پورہ امن معاہدہ نہ ہوتا تو آج شمال مشرقی ریاستیں آتش فشاں بن چکی ہوتیں، آئی ایس آئی کا خوف بھارتی سیاستدانوں کو ستانے لگا

اگرتلہ: بھارت کے ’’گودی میڈیا‘‘ کا پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کا خوف اس قدر ستانے لگاہے کہ ملک کی سیاسی جماعتیں اور رہنما بھی کسی غیر مرئی خوف کے اسیر دکھائی دیتے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، اسی خوف کی کیفیت میں ٹِپرا موتھا پارٹی کے بانی پردیوت کشور دیب برما نے دعویٰ کیا کہ اگر گزشتہ سال تریپورہ میں آزادی پسند سرگرم دو عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ امن معاہدہ نہ ہوتا تو آئی ایس آئی ان کے ذریعے بھارت کے شمال مشرقی خطے میں بدامنی پھیلا سکتی تھی۔

دیب برما نے صحافیوں سے گفتگو میں اس مبینہ خطرے کو بنگلہ دیش میں ممکنہ عدم استحکام سے جوڑا، جو شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق اگست 2023 میں طے پانے والا امن معاہدہ اس خدشے کو ختم کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہوا اور اس نے گروپوں کو ’’غیر ملکی ہاتھوں‘‘ میں کھیلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ نہ ہوتا تو ان دونوں گروپوں کو آسانی سے فعال کر کے حساس سرحدی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بگاڑی جا سکتی تھی۔

سیاسی مبصرین اس بیانیے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھارتی سیاستدان عوام کے حقیقی مسائل، بالخصوص شمال مشرق کی شورش زدہ ریاستوں کے مسائل، حل کرنے کے بجائے ہمیشہ بیرونی طاقتوں—خصوصاً پاکستان اور اس کی خفیہ ایجنسیوں—کو موردِ الزام ٹھہرا کر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button