کتابوں پر پابندی تاریخ کو مٹانے کی ناکام کوشش ہے :جموں وکشمیر فورم فرانس
میرپور: پیرس میں قائم جموں و کشمیر فورم فرانس کے چیئرمین چوہدری نعیم اختر نے جموں و کشمیرکے بارے میں 25ممتاز مصنفین کی کتابوں پر پابندی کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نعیم اختر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں سنسرشپ اور جمہوری آزادیوں پر پابندیاں جاری ہیں۔ انہوں نے کتابوں پر پابندی کو غیر منطقی، افسوسناک اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کتابوں میں ایساکیا ہے جس سے قابض بھارتی افواج کو خطرہ ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حالات واقعی نارمل ہیں تو پھر سنسر شپ کیوں؟ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ کتابوں پر پابندی اکثر ان کی مقبولیت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ جو خیالات دبائے جاتے ہیں وہ عوامی شعور میں زیادہ گہرائی سے جم جاتے ہیں۔نعیم اختر نے کہا کہ کتابوں پر پابندی کا یہ فیصلہ جمہوری حقوق اور فکری آزادی پر ظالمانہ حملہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ پابندی دفعہ370کی منسوخی کے چھ سال مکمل ہونے کے دن لگائی گئی جو کشمیری عوام کے ساتھ ناانصافی کی ایک اور علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ کتابوں پر پابندی تاریخ کو مٹانے کی ناکام کوشش ہے۔






