آزاد کشمیر

بھارت” ٹی ٹی پی“ کو پاکستان مخالف عزائم کیلئے استعمال کر رہا ہے، سرادر مسعود خان

اسلام آباد:آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ستمبر کے اوائل میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس کے موقع پر اگر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوتی ہے تو اس کی معنویت اور سیاسی تاثر غیر معمولی ہوگا، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے بعد اعلیٰ سطح پر پہلا رابطہ ہوگا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سردار مسعود خان نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو میں کہا کہ امریکی صدر پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کسی بھی تیسرے ملک میں ممکن ہے۔ اس حوالے سے ماضی میں قطر اور نورڈک ممالک کے نام زیر غور آئے تھے، تاہم اگر یہ ملاقات چین میں ہوتی ہے تو اس کے نتائج کے بارے میں حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے چین، پاکستان اور افغانستان کے سہ فریقی مذاکرات کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کابل کی طالبان حکومت گزشتہ دو برس سے پاکستان کو یقین دہانی کرا رہی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرنے دی جائے گی، وزرائے خارجہ، وزرائے داخلہ اور خصوصی ایلچیوں کی سطح پر اس سلسلے میں مذاکرات جاری رہے ہیںاور اب وقت آگیا ہے کہ ان فیصلوں پر عملی پیش رفت کی جائے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ چین کی ثالثی کے نتیجے میں اسلام آباد اور کابل کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اولین ترجیح دہشت گردی کا خاتمہ اور ٹی ٹی پی کے افغان سرزمین پر موجود ٹھکانوں کو ختم کرانا ہے۔ پاکستان کا موقف یہ رہا ہے کہ بھارت کا ٹی ٹی پی کو پاکستان مخالف عزائم کے لیے استعمال کر کے اسلام آباد اور کابل کے تعلقات میں بداعتمادی پیدا کر رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی انخلا کے بعد ساڑھے سات ارب ڈالر مالیت کا جدید اسلحہ افغانستان میں رہ گیا جو اب دہشت گردوں کے قبضے میں ہے اور پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کی ثالثی سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان نہ صرف مفاہمت ہوئی بلکہ اقتصادی تعاون کے نئے راستے بھی کھلے ہیں، جن میں ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کے درمیان ریلوے لنک، ترکمانستان-افغانستان-پاکستان گیس پائپ لائن (ٹی اے پی آئی) اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے مسائل کا حل شامل ہے۔سابق صدر نے کہا کہ چین نے پاکچین اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کا دائرہ افغانستان تک بڑھانے کی پیشکش کی ہے تاکہ افغانستان بھی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا حصہ بن سکے، جو دونوں ممالک کے روشن مستقبل کی ضمانت بنے گا۔KMS-10/M

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button