آپریشن سندور کے بعد مودی حکومت کی پالیسیاں بھارت کو لے ڈوبیں
عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ تباہ اور ملکی معیشت شدید بحران کا شکار ہے
اسلام آباد:آپریشن سندور میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت نے معیشت اور سفارتکاری میں جو راستہ اختیار کیا، وہ الٹا بھارت کے گلے کا پھندا بن گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پربھارت کااسٹریٹجک دوغلاپن اور واشنگٹن اورماسکو کے درمیان جھولنے کی پالیسی نے نہ صرف بھارت کی ساکھ کو تباہ کیا بلکہ ملکی معیشت کو بھی شدید بحران میں دھکیل دیا۔ امریکہ نے بھارت کے خلاف سخت ترین اقتصادی اقدام اٹھاتے ہوئے بھارتی برآمدات پر 50فیصد ٹیرف نافذ کر دیا جس کے اثرات بھارتی مالیاتی منڈیوں اور برآمدی صنعتوں پر تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔امریکہ کی طرف سے50فیصد ٹیرف کافیصلہ بھارتی معیشت پر کاری ضرب ثابت ہورہا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ روس سے سستا تیل خرید کر عالمی منڈی میں مہنگے داموں بیچ رہا ہے اور یوکرین جنگ کے دوران ماسکو کی جنگی مشین کو فنڈ کر رہا ہے۔ امریکہ نے اس کا سخت جواب دیا گیا۔یکم اگست 2025کو 25 فیصدٹیرف کا پہلا مرحلہ نافذ ہوا،27اگست 2025سے دوسرا مرحلہ لاگو ہوا، یوں بھارتی برآمدات پر مجموعی طورپر50 فیصدٹیرف عائد ہو گیا۔سیاسی مبصرین کے مطابق87ارب ڈالر کی بھارتی برآمدات میں سے 55 ارب ڈالر کی برآمدات امریکی منڈی میں جاتی ہیں جوبراہِ راست زد میں آ گئیں۔اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی اوردیگر مالیاتی جھٹکے الگ سے ہیں۔ امریکی اعلان کے بعد بھارتی مارکیٹ ہل کر رہ گئی،سینسیکس 849پوائنٹس گر کر 80,786.54پر آ گیا۔نِفٹی1.0250فیصد گر کر 24,712پر بند ہوا۔بی ایس ای مڈ کیپ انڈیکس 1.34فیصد اور اسمال کیپ انڈیکس 1.68 فیصدنیچے آئے۔بھارتی روپیہ تین ہفتوں کی کم ترین سطح 87.68فی ڈالر پر پہنچ گیا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی برآمداتی صنعتیں زوال کا شکارہیں۔تریپورہ جو 16ارب ڈالر کے ریڈی میڈ گارمنٹس کا مرکز ہے، وہاں فیکٹریاں بند اور آڈرز منسوخ ہو گئے۔مال موجود ہے مگر خریدار کوئی نہیں۔ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ستمبر کے بعد ہمارے پاس کوئی کام نہیں۔سورت (گجرات) میںجہاں 10ارب ڈالر سالانہ کی ڈائمنڈ جیولری امریکہ کو جاتی تھی اب خوفناک خاموشی طاری ہے۔50لاکھ افراد کو روزگار دینے والے یونٹس مہینے میں صرف 15دن چل رہے ہیں۔تنخواہوں میں کٹوتی اور جبری رخصت عام ہو گئی ہے۔ جھینگا فارمنگ پر سب سے بھاری ضرب لگی جس میںامریکہ بھارت کی سب سے بڑی منڈی تھی۔ٹیرف اور ڈیوٹیز کے بعد مجموعی لاگت 60 فیصدبڑھ گئی۔قیمت 60سینٹس فی کلو سے گر کر 75سینٹس فی کلو تک آ گئی۔اس صنعت سے وابستہ 10 لاکھ افراد براہِ راست متاثر ہوئے۔ سیاسی مبصرین نے کہاکہ روس کی طرف بھارت کے جھکائو پر امریکہ نے واضح پیغام دیاکہ دوغلا کھیل مزید برداشت نہیں ہوگا۔امریکی وفد کا بھارت کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا گیا، جس سے مذاکرات کا امکان ختم ہو گیا۔عالمی منڈی میں بھارت کی جگہ تیزی سے بنگلہ دیش، ویتنام اور چین لے رہے ہیں۔بھارت کی اسٹریٹجک موقع پرستی بے نقاب ہو گئی اورعالمی تاثر تبدیل ہورہا ہے ۔آپریشن سندور کے بعد مودی حکومت نے آتم نربھر بھارت اور مراعاتی پیکجز کے ذریعے بحران سنبھالنے کی کوشش کی مگر عالمی حقیقتوں نے ان اقدامات کو بے اثر کر دیا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ برآمداتی صنعتیں بند پڑی ہیں۔لاکھوں افراد بیروزگار ہو رہے ہیں۔مالیاتی منڈیاں بحران کا شکار ہیں۔بھارت کی عالمی ساکھ شدید متاثرہورہی ہے۔مودی حکومت کی جنگی جنون اور دوغلی پالیسیوں نے بھارت کو ایسی گہری کھائی میں دھکیل دیا ہے جہاں سے نکلنا اب آسان نہیں۔







