تازہ ترین

امریکہ کیطرف سے بھارت کی طرفداری، پاکستان اور چین کے خلاف تعصب کا مظاہرہ

بھارت میں مذہبی آزادی کے حوالے سے”یو ایس سی آئی آر ایف“ کی سفارشات نظرانداز کر دیں
اسلام آباد03 دسمبر (کے ایم ایس) امریکا بھارت کی طرفداری اور پاکستان اور چین کے خلاف تعصب کا مظاہرہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق امریکہ کے اس افسوسناک طرز عمل کا مظاہرہ ایک مرتبہ پھر اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکی محکمہ خارجہ نے ”امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی“ (یو ایس سی آئی آر ایف) کی ان سفارشات کو نظر انداز کر دیا جن میں بھارت کوان ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے کی بات کی گئی تھی جہاں اقلیتوں کی مذہبی آزادیاں خطرے میں ہیں۔ سفارشات پر عمل کرنے کے بجائے امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان اور چین کو ان ملکوں کی فہرست میں رکھا۔
یو ایس سی آئی آر ایف نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں مذہبی آزادی اور متعلقہ انسانی حقوق خطرے میں ہیںاور حکومتی پالیسیاں مذہبی اقلیتوں کا تحفظ نہیں کرتی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال کے دوران بھارتی حکومت نے قومی، ریاستی اور مقامی سطحوں پر ایسی پالیسیوں کو فروغ دینے اور نافذ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جو مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، دلتوں اور آدیواسیوں پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔ کمیشن مسلسل تین برس سے امریکی محکمہ خارجہ سے کہہ رہا کہ وہ اس حوالے سے بھارت کو ”خاص تشویش کا ملک “قرار دے۔
تاہم مریکی وزیر خارجہ کے سیکرٹری اینٹونی بلنکن نے ایک بیان میں یو ایس سی آئی آر ایف کی سفارش کو نظر انداز کیا اور اس کے بجائے پاکستان اور چین کو ایسے ملکوںکی فہرست میں شامل کیا۔
اس فہرست میں برما، کیوبا، اریٹیریا، ایران، نکاراگوا، ڈی پی آر کے (ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا)، روس، سعودی عرب، تاجکستان اور ترکمانستان بھی شامل ہیں۔
یادر ہے کہ 2014 میں فسطائی نریندر مودی کے بھارت کے وزیر اعظم کے طور پر اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک میں مذہبی آزادیوں کا گراف انتہائی نیچے چلا گیا ۔ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ مودی حکومت دوسرے مذاہب پر ہندو مذہب کے غلبہ کی تبلیغ کر رہی ہے اور مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کے خلاف ہندو ہجوم کے حملے بھارت میں روز کا معمول بن چکے ہیں ۔ آر ایس ایس اور بی جے پی بھارت کو ہندو راشٹر(دیش) میں تبدیل کرنے کے اپنے مذموم ایجنڈے پرتیزی سے عمل پیرا ہیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: