مجوزہ حلقہ بندی شمالی و جنوبی ریاستوں کو تقسیم کرنے کی سازش ہیں
کانگریس پارٹی کی مودی حکومت پرکڑی تنقید

نئی دلی:بھارت میں اپوزیشن کی مرکزی جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے مودی حکومت کی جانب سے خواتین ریزرویشن قانون کے ساتھ منسلک مجوزہ حلقہ بندیوں کو ملک میں شمالی اور جنوبی ریاستوں کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پارٹی ترجمان سپریہ شرینتے نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حلقہ بندیوں کے عمل میں منصفانہ نمائندگی کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور اسے محض جمع تفریق کی بنیاد پر نہیں چلایا جا سکتا۔کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے بھی کہا ہے کہ مجوزہ حلقہ بندیوں نے آئینی خدشات کو جنم دیا ہے اور اس کے دور رس سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ لوک سبھا کی نشستوں میں کسی بھی اضافے کو سیاسی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے، نہ کہ صرف عددی بنیادوں پر۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس مجوزہ فریم ورک کے تحت کیرالہ ، تمل ناڈو ،کرناٹک ، آندھراپردیش اورتلنگانہ جیسی ریاستوں کی پارلیمانی نمائندگی کم ہو سکتی ہے، حالانکہ ان ریاستوں نے آبادی پر کنٹرول اور انسانی ترقی کے اشاریوں میں خاصی بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔کانگریس نے اس معاملے پر کل جماعتی مشاورت کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اتفاق رائے کے بغیر کسی بھی تبدیلی کی کوشش سیاسی ردعمل اور عوامی بے چینی کو جنم دے سکتی ہے۔







