بھارتی جھوٹ اور مفافقت کا پردہ چاک کرنے کیلئے ایک مستند و موثر رپورٹنگ کی ضرورت ہے، مقررین

اسلام آباد :اسلام آبادمیں منعقدہ ایک میڈیا ورکشاپ کے مقررین نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، میڈیا پرپابندی اور کشمیر کے بارے میں بے بنیا د بھارتی بیانیے کا پردہ چاک کرنے کیلئے ایک انتہائی مستند، جاندار اور موثررپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق” کنفلیکٹ رپورٹنگ کے“ عنوان سے ورکشاف کا انعقاد کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آئی آر)نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے صحافیوں کی تنظیم یکجا کے تعاون سے کیا تھا۔
کے آئی آئی آر کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اس موقع پر کہا کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق موثر رپورٹنگ اور اس حوالے سے صحافیوں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ جموںوکشمیر سے متعلق بھارت کا بیانیہ قطعی طور پر جھوٹ پر مبنی ہے جس کی کوئی تاریخی حقیقت نہیں ہے ۔ انہوںنے کہا کہ دنیا نے بھارتی بیانیہ مسترد کر دیا ہے اور وہ جموں وکشمیر کو بدستور ایک متنازعہ خطہ مانتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب بھارت مقبوضہ کشمیر میں مقافی صحافیوںکو بندوق کی نوک پر سچ بولنے اور لکھنے سے روک رہا ہے ، آزاد کشمیر کے صحافیوں اور پاکستان میں موجود کشمیری صحافیوں کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے قلم کا بھر پور استعمال کریں اور بھارتی جھوٹ ، منافقت اور نہتے کشمیریوں پر اسکے وحشیانہ مظالم کو عالمی سطح پر موثر طریقے سے بے نقاب کریں۔یونائیٹڈ کشمیر جرنلسٹس ایسوسی ایشن (یکجا )کے صدر ڈاکٹر محمد اشرف وانی نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں صحافتی آزادی بھی مکمل طور پرسلب کر رکھی ہے اور وہ علاقے کی حقیقی تصویر سے دنیا کو بے خبر رکھنے کی پوری کوشش کر رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہماری رپورٹنگ حقائق پر مبنی ہونی چاہیے ، ہم ایک جاندار اور موثر رپورٹنگ کے ذریعے ہی بے بنیاد بھارتی بیانیے ، اسکی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا توڑ کر سکتے ہیں۔یکجا کے سینئر نائب صدر شبیر ڈار نے مقبوضہ علاقے سے تصدیق شدہ معلومات کے حصول کے لیے میڈیا ڈیٹا بینک کے قیام کی تجویز پیش کی اور کہا کہ یہ ذخیرہ صحافیوں اور میڈیا اداروں کو ایک مربوط بیانیے کی تشکیل میں مدد کرے گا۔یکجا کے جنرل سیکرٹری نعیم الاسد نے بھارت کے ساتھ حالیہ تنازعے کے دوران پاکستانی میڈیا کی معتبر اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے میڈیا اداروں نے اپنی سنجیدہ رپوٹنگ کے ذریعے اپنی شاندار پہنچان اور ایک خاص مقام بنا لیا ہے جبکہ اسکے برعکس بھارتی میڈیا محض جھوٹ اور پروپیگنڈے کا ایک ہتھیار بن کر رہ گیا ہے۔ورکشاپ میں سینئر صحافیوں حبیب اللہ شیخ ، ہلال احمد ، زاہد منیر،ظہور احمد ،شوکت ابوزر اور دیگر نے تنازعات کے دوران سچائی کو برقرار رکھنے کے لیے صحافیوں کی ذمہ داری پر زور دیا اور کہاکہ بھارت نے متنازعہ خطے میں اظہار رائے کی آزادی کا حق سلب کر رکھا ہے تاہم کشمیری صحافی سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیر کاز کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔







