مقبوضہ جموں وکشمیر: بھارت کا جنون اور کشمیری عوام کو قتل کرنے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے
مقبوضہ جموں وکشمیر میں تعینات دس لاکھ بھارتی فوجیوں کے منہ کو انسانی خون لگ چکا ہے۔
سرینگر:بھارت کا جنون اور کشمیری عوام کو قتل کرنے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔
دو معصوم کشمیری گریز بانڈی پورہ میں شہید کیے گئے۔
دو عام کشمیری شمالی کشمیر کے گریز بانڈی پورہ کے سرحدی قبصہ نوشہرہ ناڑ میں فرضی جھڑپ میں شہید ۔دونوں کو گرفتار کرنے کے بعد مذکورہ علاقے میں لے جایا گیا اور پھر فرضی تصادم کا ڈرامہ رچاکر انہیں گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کیلئے بھارتی وردی پوشوں نے ان معصوم کشمیریوں کو مجاہدین کے گائیڈ قرار دیا گیا۔ان میں سے ایک کا نام بابو خان عرف سمندر چاچا بتایا گیا کے بارے میں یہ دعوی بھی کیا گیا کہ وہ خفیہ اور دشوار گزار راستوں کے ماہر اور وہ لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا کام کرتا تھا۔ بھارتی سفاکوں کا یہ دعوی بذات خود ان کیلئے سبکی اور رسوائی کا باعث ہے کہ جب پوری کنٹرول لائن پر سات سے نو فٹ خار دار باڑ لگائی جاچکی ہو اور اس کے علاوہ بھارتی فوجی جدید ہتھیاروں سے لیس سرحدی علاقوں کی نگرانی پر معمور ہیں ایسے میں کنٹرول لائن پر عام اور نہتے کشمیریوں کی نقل و حمل خارج از امکان ہے۔یہ صرف معصوم کشمیریوں کا خون ناحق دنیا سے چھپانے کی بونڈی کوشش ہے۔کیونکہ بھارتی حکمران طبقہ اور بھارتی افواج یہ دعوی کرتے نہیں تھکتے کہ کنٹرول لائن پر کسی بھی قسم کی نقل و حرکت ممکن نہیں ہے۔اس کے علاوہ نقل و حمل پر چوبیس گھنٹے نظر رکھنے کیلئے جدید آلات پہلے سے نصب ہیں۔ایسے میں کوئی کشمیری اور وہ بھی نہتا کیونکر اپنی جان خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ یہ صرف اور صرف تحریک آزادی کشمیر اور پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم بھارتی سازش ہے۔بھارتی افواج معصوم کشمیریوں کو ماضی میں بھی فرضی جھڑپوں میں شہید کرنے کا گھناونا کھیل کھیل چکی ہے۔مژھل کپواڑہ ‘ براکہ پورہ اسلام آباد اور امشی پورہ شوپیاں میں معصوم لوگوں کا قتل بھارت کیلئے رسوائی کا باعث ہے۔امشی پورہ شوپیاں میں راجوری کے تین مزدوروں کو فرضی جھڑپ میں قتل کرنے کی پاداش میں بھارتی فوجی کیپٹن بھوپندر سنگھ کو کورٹ مارشل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔جس نے سیب کے باغ میں مزدوری تین کرنے والے تین نوجوان اغوا کرنے کے بعد ان کا بے رحمانہ قتل کیا تھا۔بابو خان سمیت دو کشمیریوں کی فرضی جھڑپ میں شہادت کی بھی آزادانہ تحقیقات کی جائے تاکہ اس قتل میں ملوث بھارتی درندوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکے






