محبوبہ مفتی کا کشمیری نظربندوں کی حالت زار پر اظہار تشویش ، بھارتی جیلوں سے مقبوضہ کشمیر منتقلی کا مطالبہ
سرینگر:
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے ایک بار پھر کشمیری سیاسی نظربندوں کی حالت زار پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2019کے بعد سے اب تک 3500سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے بیشتر بھارت کی دور دراز جیلوں میں قید ہیں۔ انہوں نے قابض حکام پر کشمیری نظربندوں کی مقبوضہ کشمیر منتقلی پر زور دیا تاکہ ان کے اہلخانہ ان سے آسانی سے ملاقات اورعدالتوں میں انکے خلاف دائر جھوٹے مقدمات میں پیروی کر سکیں۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ ہم کشمیری نظربندوں کی رہائی کا نہیں بلکہ انہیں بھارتی جیلوں سے مقبوضہ کشمیرمنتقلی کا مطالبہ کرر ہے ہیں کیونکہ اہلخانہ کو ان سے ملاقات کیلئے طویل فاصلہ طے اور اخراجات کرنے پڑتے ہیں ۔محبوبہ مفتی نے کشمیری نظربندوں کے اہلخانہ نے انکے خلاف درج مقدمات کی پیروی کرتے ہوئے اپنے تمام وسائل لٹا دئے ہیں ۔کچھ کے گھر اورزمینیں اور زیورات تک بک گئے ہیں لیکن ان کے پیارے جیلوں سے رہا نہیں ہو سکے ۔ انہوں نے کہاکہ بہت سے کشمیری اپنے پیاروں سے بھارت کی دوردراز جیلوں میں ملاقات کیلئے جانے کی بھی ستطاعت نہیں رکھتے ۔محبوبہ مفتی نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ذاتی طور پر بھارتی حکام بشمول وزیر داخلہ امیت شاہ کو خط لکھ کر کشمیری نظربندوں کے بارے میں تفصیلات طلب کی تھیں لیکن انہیں کوئی جواب نہیں دیاگیا۔انہوں نے مزیدکہ بھارتی جیلوںمیں طویل نظربندی کی وجہ سے کشمیری قیدی مختلف بیماریوںمیں بھی مبتلا ہو گئے ہیں ۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے محبوبہ مفتی نے بھارتی جیلوں سے تمام کشمیری نظربندوں کی مقبوضہ کشمیر منتقلی کیلئے ایک درخواست دائر کی ہے ۔








