بھارت کی لاپرواہی کے باعث کشتواڑ سیلابوں کے خطرات سے دوچار

سرینگر: ایک تازہ رپورٹ میں خبردارکیاگیا ہے کہ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں گلیشرز کے تیزی سے پگھلنے سے ضلع کشتواڑ میں سیلاب کے خطرات بڑھ گئے ہیں جس سے ہزاروں لوگوں کی زندگیوں، نازک ماحولیاتی نظام اور اہم بنیادی ڈھانچے کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق برفانی جھیلوں کے قریب ہونے کی وجہ سے پڈر، مچل، دچھن، مڑوہ اور واڑون کی تحصیلوں کوسب سے زیادہ متاثرہ ہونے کا خطرہ ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ صرف کشتواڑ میں ایسی 197جھیلیں ہیں جو مقبوضہ علاقے میں پائی جانے والی اس طرح کی جھیلوں کا ایک تہائی سے زیادہ ہے جس سے یہ سب سے زیادہ خطرات والا ضلع بن گیا ہے جہاں اچانک سیلاب آسکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے پن بجلی کے بڑے بڑے منصوبوں کی لاپرواہی سے تعمیر، سڑکوں پر دھماکوں اور جنگلات کی اندھا دھند کٹائی نے اس خطرے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پکل ڈل، کیرو، کوار اور ڈانگ ڈورو ڈیم سمیت چناب ویلی پاور پروجیکٹس لمیٹڈ کے تحت منصوبوں کو پانی کی بڑھتی ہوئی سطح یا ممکنہ ڈیم ٹوٹنے کے باعث انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے کہا کہ ان منصوبوں کو مناسب ماحولیاتی تحفظ کے بغیر آگے بڑھایا جا رہا ہے جس سے خطے کی ماحولیات اور اس کے لوگوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مڑوہ اور وارڈون پہلے سے ہی الگ تھلگ علاقے ہیں جہاں آفات سے نمٹنے کے لئے کسی قسم کی کوئی تیاری نہیں ہے، جس سے نشیبی دیہات اور کسانوں کو شدیدخطرات کا سامنا ہے۔ رواں ماہ کے شروع میں پڈر کے علاقے چشوتی میں تباہی کے منظر دیکھے گئے جہاں مچل یاترا کے دوران بادل پھٹنے سے آنے والے سیلاب سے 65 افراد ہلاک ہوئے تھے جو آنے والے خطرات کی طرف اشارہ ہے۔ماہرین ماحولیات نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی طرف سے ہمالیائی وسائل کے اندھا دھنداستحصال اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلیشرز کے تیزی سے پگلنے سے مقبوضہ جموں و کشمیر ایک ٹائم بم بن چکاہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت مقامی لوگوں کی حفاظت کو ترجیح دینے کے بجائے استحصالی منصوبوں کے ذریعے علاقے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہا ہے۔رپورٹ میں قبل از وقت انتباہی نظام، برفانی اورمٹی کے تودوں کو روکنے کے انتظامات، جنگلات کی افزائش اور آب و ہوا کے لئے موافق تعمیرات جیسے فوری اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ قابض حکام کو کشمیریوں کی زندگیوں اور معیشت کے تحفظ سے کوئی دلچسپی نہیں جو قدرتی اور انسانی ساختہ دونوںقسم کی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔








