بھارت

امریکہ کی سردمہری کے بعد ،مودی کی سفارتی یاترا بھیک مانگنے کی مہم بن گئی

 

نئی دلی: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے جاپان، چین اور دیگر علاقائی ممالک کے حالیہ دورے امریکی انتظامیہ کی طرف سے بھارت پرٹیرف میں 50فیصد تک اضافے کے اثرات اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نریندر مودی نے حال ہی میں سفارتی تنہائی کو کم اور پاکستان کے خلاف ناکام آپریشن سندور سے ہونے والے ہزیمت کو چھپانے کیلئے جاپان، چین اور دیگر ایشیائی ممالک کا رخ کیا ہے۔امریکی انتظامیہ کی بڑھتی ہوئی سردمہری اور یورپی طاقتوں کے محتاط رویے کی وجہ سے بھارت کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے ۔نریندر مودی کی سفارتکاری اب طاقتور شراکت داری کے بجائے سفارتی سہارا ڈھونڈنے کی ایک مایوس کن کوشش دکھائی دیتی ہے۔تجزیہ کارروں کے مطابق امریکہ، جسے نریندر مودی بھارت کا سب سے قریبی شراکت دار قرار دیتے رہے ہیں، اب انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے تشدد اور جمہوری اداروں کی کمزوری پربھارت پر کھلے عام تنقید کر رہا ہے۔ مودی حکومت عالمی سطح پر اپنی ساکھ بچانے کیلئے جاپان، آسیان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کو متبادل سہارا بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ لیکن نریندر مودی کی یہ یاترا صرف علامتی ہے،ان میں عملی تعاون یاکسی قسم کے کوئی بڑے معاہدے طے نہیں کئے گئے ۔ناقدین ان دوروں کو مودی حکومت کی کمزور سفارتی پوزیشن قرار دے رہے ہیں۔ نریندر مودی جو کبھی بھارت کو عالمی طاقت کے طور پر پیش کرتے تھے ، آج خطے میں اپنی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے ملکوں ملکوں کی خاک چھان رہے ہیں،جو کسی مضبوط لیڈر کی خوداعتمادی نہیں بلکہ ایک ایسے حکمران کی کمزوری ہے جو عالمی سطح پر بھیک مانگنے کی مہم پر مجبور ہے۔اگرچہ گودی میڈیا نریندر مودی کو ایک مدبر عالمی لیڈر کے طورپرپیش کرتا ہے تاہم مودی کو عالمی سطح پر یکے بعد دیگر دھچکوں کا سامنا ہے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button