پاکستان

پاکستان کی طرف سیلابی پانی چھوڑنا بھارت کی منظم آبی جارحیت ، انسانی و قانونی جرم ہے

اسلام آباد: بھارت کی جانب سے جان بوجھ کر پاکستان کی طر ف سیلابی پانی چھوڑنا ایک منظم آبی جارحیت اور آبی دہشت گردی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں نہ صرف قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا بلکہ ملک کا بنیادی ڈھانچہ، زرعی زمینیں اور معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر دریائوں پر کنٹرول استعمال کرتے ہوئے اچانک اور بغیر پیشگی اطلاع کے پانی چھوڑنا محض بدانتظامی نہیں بلکہ ایک منظم آبی جارحیت ہے، جس کا واحد مقصد پاکستان کی معیشت اور زرعی پیداوار کونقصان پہنچانا ہے۔ماہرین کے مطابق بھارت کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون ،سندھ طاس معاہدے ،انسانی اقدار اور پاکستان کی خودمختاری کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں کو امداد اور بحالی کی فوری ضرورت ہے۔ متاثرہ علاقوں میں کسانوں کی فصلیں تباہ اور صاف پانی، خوراک اور طبی سہولیات کی شدید قلت ہے۔بھارت دریائوں پر یکطرفہ کنٹرول کااستعمال کر کے بار بار تباہ کن سیلاب پیدا کرتا ہے جس سے پاکستان میں مکانات، فصلیں اور اہم بنیادی ڈھانچے تباہ ہوتے ہیں ۔ بھارت پاکستان کی طرف چھوڑے گئے سیلابی پانی کے بڑے ریلوں کو کو ڈیموں کی دیکھ بھال یا "سیلابی انتظام” کانام دیتا ہے تاہم جس وقت اور جتنی مقدار میں یہ سیلابی پانی چھوڑا جاتا ہے اس سے واضح ہوتاہے کہ یہ مودی حکومت پاکستان کے خلاف منصوبہ بند آبی دہشتگردی جاری رکھے ہوئے ہے ۔ماہرین کے مطابق پاکستان کو قانونی، سفارتی اور میڈیا محاذ پر بھارتی آبی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کرنا چاہیے اور بھارت کے قدرتی وسائل کے سیاسی اور معاشی طورپر غلط استعمال کو بے نقاب کرنا چاہیے۔عالمی برادری کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بھارت کی یہ کارروائیاں ریاستی سرپرستی میں آبی دہشت گردی ہیں۔ پاکستان کو بھارت کی طرف سے بار باران سنگین خلاف ورزیوں پر جوابدہی کا مطالبہ کرنا چاہیے، جس کے باعث لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button