کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد کشمیرشاخ کا کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان کے بیان کا خیر مقدم

اسلام آباد :کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیرشاخ نے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے اس جرات مندانہ اور حقیقت پر مبنی بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انہوں نے کہاتھا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر نہ برصغیر میں پائیدار امن ممکن ہے اور نہ ہی بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوئی صورت پیدا ہوسکتی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیرشاخ کے سیکرٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں وزیراعظم پاکستان کے اس موقف کو کشمیری عوام کی حقیقی ترجمانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیان نہ صرف کشمیری قوم کے دل کی آواز بلکہ برصغیر میں امن و استحکام کے لیے واحد قابلِ عمل راستے کی نشاندہی کرتا ہے۔ بیان میں امید ظاہر کی گئی کہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اورپائیدارحل تک پاکستانی ریاست اپنی سیاسی،سفارتی اور اخلاقی حمایت کو مزید تقویت دیتے ہوئے کشمیری عوام کی عملی مدد کے لیے بھی آگے بڑھے گی۔ بیان میں کہاگیا کہ آپریشن بنیان المرصوص کی تاریخی کامیابی اور اس کے نتیجے میں بھارت کو ہونے والی واضح شکست کے باوجود مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال نہایت سنگین اور تشویشناک ہے۔ وہاں کے نام نہاد وزیر اعلیٰ کے اعترافی بیانات اس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ بھارتی ظلم و جبر، ماورائے عدالت قتل ، بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ، جائیدادوں کی ضبطی اور غیر ریاستی باشندوں کی آبادکاری کی مذموم مہم شدومد سے جاری ہے جس کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت مٹانا اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقِ خودارادیت سے محروم رکھنا ہے۔بیان میں کہاگیاکہ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں ۔کل جماعتی حریت کانفرنس اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ان غیر قانونی، غیر آئینی اور انسانیت سوز اقدامات کا نوٹس لیں اور اپنی منصبی و اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے بھارت کو ان اقدامات سے باز رکھنے کے لئے موثر کردار ادا کریں۔ بیان میں کہاگیا کہ عالمی برادری کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ جنوبی ایشیا میں امن کا خواب اس وقت تک شرمند تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک کشمیری عوام کو ان کا ناقابلِ تنسیخ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقِ خودارادیت فراہم نہیں کیا جاتا۔ بیان میں اس عزم اعادہ کیاگیا کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہدِ آزادی اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک انہیں اپنی سیاسی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا موقع فراہم نہیں کیاجاتا۔






