کارگل ڈیموکریٹک الائنس کا چار افراد کے قتل کی تحقیقات اور سونم وانگچک کی رہائی کا مطالبہ

سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کارگل ڈیموکریٹک الائنس نے لداخ خطے میں حالیہ مظاہروں کے دوران بھارتی فورسز کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال میں چار افراد کے قتل اور سوکے قریب افراد کے زخمی ہونے کے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیاہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کارگل ڈیموکریٹک الائنس کے رہنمائوں بشمول شریک چیئرمین اصغر کربلائی، سجاد کرگلی، رکن اسمبلی حاجی حنیفہ جان اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے پریس کلب آف انڈیا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک اورگرفتار کئے گئے دیگر افراد کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا ۔ اصغرکربلائی نے کہا کہ لہہ میں بھارتی فورسز کی طرف سے مظاہرین پر حملہ دراصل جمہوریت پرحملہ تھا۔انہوں نے گرفتارمظاہرین کی رہائی اور انکے خلاف درج مقدمات واپس لینے تک بھارتی حکومت سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ سونم وانگچک کی نظربندی کو غیر منصفانہ قراردیتے ہوئے کہاکہ ان کا واحد جرم یہ ہے کہ انہوں نے لداخ کے لوگوں کے حقوق کیلئے بات کی ۔ دیگر مقررین نے کہاکہ مودی حکومت اگست2019میں دفعہ 370کے تحت جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے وقت عوام سے کئے گئے اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے سابق حامیوں پر بھی حکومتی پالیسیوں پر سوال اٹھانے پرکالے قوانین کے تحت مقدمات درج کئے جارہے ہیں ۔








