اسد الدین اویسی کی بھارت کی تعمیر و ترقی میں آر ایس ایس کے کردارکی تعریف پر نریندرمودی پر کڑی تنقید
حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بھارت کی تعمیر وترقی میں ہندوتوا آر ایس ایس کے کردار کی تعریف پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کوکڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق اسدالدین اویسی نے حیدرآباد میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کو لمبی لمبی تقریریں کرنے کی عادت ہے۔1925میں آر ایس ایس کے قیام کے بعد سے تنظیم کا کوئی بھی رکن نہ تو جیل گیا ہے اور نہ ہی اس نے ملک و قوم کے لیے اپنی جان دی ہے ۔انہوں نے دعوی کیا کہ برطانوی آرکائیوز کے مطابق آر ایس ایس کے کارکنوں نے کبھی آزادی کی جدوجہد میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی انہیں کوئی خطرہ لاحق ہے۔اسد الدین اویسی نے کہاکہ آر ایس ایس میگزین ‘آرگنائزر’نے 14اگست 1947کو بھارت کے پرچم کے تین رنگوں پر ناگواری کا اظہار کیا تھا۔تاہم اس حقیقت کو نریندر مودی نے اپنی تقریر میں نظر انداز کردیا۔انہوں نے کہا کہ جب 23 نومبر 1949کو ملک کا آئین بنایاگیاتو ‘آرگنائزر’میگزین میں لکھا گیاکہ ملک کو اس آئین کی نہیں’منوسمرتی’ کی ضرورت ہے۔آر ایس ایس کے دوسرے سرسنگھ چالک ایم ایس گولوالکر نے اپنی کتاب ‘بنچ آف تھاٹس’میں عیسائیوں، مسلمانوں اور بائیں بازو کوبھارت کے لیے اندرونی خطرہ قرار دیا تھا۔اسد الدین اویسی نے کہاکہ آر ایس ایس نے بھارت کے مسلمانوں پر بار بار شک کیا، لیکن پہلا شخص جسے کالا پانی(انڈمان سیلولر جیل)بھیجا گیا، وہ حیدرآباد کے مولوی علائوالدین رحمت اللہ تھے۔






