World

امریکی مسلم تنظیم کی بھارت میں”آئی لو محمدۖ” کے پوسٹرزلگانے پر مسلمانوں کی گرفتاریوں کی مذمت

واشنگٹن:امریکہ میں قائم تنظیم ”امریکن مسلم نیٹ ورک” نے بھارتی ریاست اتر پردیش میں ”آئی لو محمدۖ” کے پوسٹرز لگانے پر مسلمانوں کی گرفتاریوں اور ان پرپولیس کے ظلم و بربریت کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو مذہبی آزادی اور انسانی حقوق پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تنظیم کے ترجمان ڈاکٹر ایم قطب الدین نے واشنگٹن میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی کی زیر قیادت ریاستی حکومت کے اقدامات پرامن مذہبی سرگرمیوں پر اسلام دشمن کارروائیوںاور عدم برداشت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر قطب الدین نے کہاکہ یہ انتہائی تکلیف دہ اور پریشان کن ہے کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاست اتر پردیش میں مسلمانوں پر وحشیانہ حملے کیے جا رہے ہیں اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت کا اظہار کرنے والی پرامن مہم پر گرفتارکیاجا رہا ہے۔تنظیم نے بھارت کے کچھ علاقوںمیں ”آئی لو محمدۖ” کے خلاف جوابی مہم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو محض پوسٹرزلگانے یا نعرے والی ٹی شرٹ پہننے پر من گھڑت الزامات کے تحت ہراساں کیا جا رہا ہے اورمارا پیٹا جا رہا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائیاں بھارتی آئین میں درج مذہب اور اظہار رائے کی آزادی کے حق سمیت بنیادی حقوق کے منافی ہیں۔دنیا بھر کے دو ارب سے زائد مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی جانوں اور اپنے پیاروں سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ اس طرح کی عقیدت کو جرم قراردینانہ صرف ناانصافی بلکہ شدید اشتعال انگیزی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم تمام عقائد کا احترام کرتے ہیں، لیکن نبیۖ سے محبت کے اظہار پرمسلمانوں کی تذلیل اور ظلم و ستم کو فوری طور پر بند ہوناچاہیے۔ تنظیم نے اتر پردیش میں ممتاز عالم دین مولانا توقیر رضا خان کی گرفتاری کو سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔امریکن مسلم نیٹ ورک نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے آئینی اقدار کو برقرار رکھے، مذہبی امتیاز کو ختم کرے اور بلا لحاظ مذہب تمام شہریوں کے لیے انصاف کو یقینی بنائے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button