World

کشمیریوں کوحق خود ارادیت دینے تک جنوبی ایشیا میں امن واستحکام قائم نہیں ہوگا:مزمل ٹھاکر

لندن : ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے صدر ڈاکٹر مزمل ایوب ٹھاکر نے برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں ان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دورہ بھارت کے دوران جموں و کشمیر پر بھارت کے مسلسل غیر قانونی قبضے اور کشمیریوں کے خلاف جاری جنگی جرائم کا معاملہ اٹھائیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈاکٹر ٹھاکر نے اپنے خط میں برطانوی وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے لیے ایک تجارتی وفد کی قیادت کرتے ہوئے ممبئی جا رہے ہیں جو مقبوضہ علاقے میںجنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم، نسل کشی، آبادکاری، اور آبادی کے تناسب میںتبدیلی کا ارتکاب کررہے ہیں۔ڈاکٹر ٹھاکر نے کہا کہ جب یوکرین کی بات آتی ہے تو برطانوی حکومت اخلاقیات کا دعوی کرتی ہے لیکن کشمیر کے معاملے پر آپ خاموش ہیں۔انہوںنے کہا اگر آپ کشمیر میں مودی کے جرائم پر سوال اٹھانے میں ناکام رہے تو آپ نہ صرف منافقت کے مرتکب ہوں گے بلکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کے ظالمانہ اقدامات میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نئی دہلی کے ساتھ برطانیہ کا تجارتی معاہدہ کشمیر اور اس کے لوگوں کی تباہی میں براہ راست کردار ادا کرے گا اور جنوبی ایشیا میں بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو تقویت پہنچائے گا جس سے خطہ مزید غیر مستحکم ہوگا۔مئی 2025میں پاکستان کے خلاف بھارت کی جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر ٹھاکر نے کہا کہ مغرب کی جانب سے مودی حکومت کو خوشنودی حاصل کرنے سے وسیع تر علاقائی عدم استحکام پیداہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جس طرح برطانیہ ایک جارح کے خلاف یوکرین کی مزاحمت کی حمایت کرتا ہے ، اسی طرح وہ توسیع پسند فسطائی مودی حکومت کے خلاف کشمیریوں کی حمایت کرے۔ڈاکٹر ٹھاکر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جنوبی ایشیا میں حقیقی امن اور استحکام اس وقت تک قائم نہیں ہوگاجب تک جموں و کشمیر کے لوگوں کو اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خود ارادیت نہیں دیاجاتا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button