مودی حکومت کا سیاہ باب،سفارتی ناکامی ،معاشی زوال اور اندرونی خلفشار عروج پر
نئی دلی: مودی حکومت کے دوراقتدار کو بھارت کیلئے سفارتی ناکامی، معاشی زوال اور اندرونی خلفشار کا سیاہ باب قرار دیا جا رہا ہے۔ ناکام خارجہ پالیسی اور جنگی جنون نے بھارت کو عالمی سطح پر تنہا اور شرمندگی سے دوچار کر دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق” ہینلے پاسپورٹ انڈیکس” میں بھارتی پاسپورٹ کی درجہ بندی میں نمایاں تنزلی کے ساتھ 85ویں نمبر پر چلا گیا ہے، جس سے بھارت کی عالمی سطح پر گرتی ہوئی ساکھ واضح ہوتی ہے ۔مودی حکومت نے عوامی وسائل کو ہتھیاروں کی خریداری اور اپنی جنگی پالیسیوں کی نذر کر دیاجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں روزگار، صحت اور تعلیم کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں 70 فیصد وینٹی لیٹر خراب ہیں جبکہ بنیادی طبی سہولیات کافقدان اور جعلی ادویات کے باعث مریض موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔مودی حکومت کے دور میں بھارت میں بیروزگاری کی شرح 5.1فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو نوجوانوں میں مایوسی کا سبب بن رہی ہے جبکہ 6سے 14سال کے 11 لاکھ سے زائد بچے اب بھی تعلیم سے محروم ہیں۔مودی حکومت کی تمام تر توجہ اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کی نسل کشی اور ہندوتوا نظریے کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنانے پر مرکوز ہے، جس سے نہ صرف ملک کے اندر خلفشار بڑھ رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کو سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔بھارت کی اندرونی و بیرونی ناکامیاں دنیا بھر میں اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں، اور بھارتی عوام ان پالیسیوں کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور ہیں۔






