اسلام آباد:پاکستان کے” جے-10 سی “ لڑاکا طیارے کی شاندار کاکردگی نے انڈونیشیا کو بھی یہ چینی ساختہ طیارہ خریدنے کی طرف مائل کیا ہے۔ رواں برس مئی میں ہونے والی پاک بھارت لڑائی میں جے 10سی نے بھارت کے 3رافیل طیاروں سمیت چھ جنگی جہاز مار گرائے تھے۔ اس فیصلے کے بعد انڈونیشیا چین کے اس جدید ترین طیارے کو استعمال کرنے والا تیسرا ملک بن جائے گا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انڈونیشیا کے وزیر دفاع سجافری سیامسودین نے اعلان کیا کہ ان کا ملک جلد ہی چین سے جے-10 سی طیارے حاصل کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ "بہت جلد یہ طیارے جکارتہ کی فضاو¿ں میں پرواز کرتے نظر آئیں گے”۔
انڈونیشیا کے وزیر خزانہ پربایا یوڈی سادیوا نے تصدیق کی کہ طیاروں کی خریداری کے لیے 9 ارب ڈالر کی منظوری دی جا چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، انڈونیشیا کم از کم 42 جے-10 سی طیارے خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔انڈونیشیا کی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ معاہدہ ملک کی فضائی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ انڈونیشین فضائیہ اس وقت جے-10 سی سیریز کے مختلف ماڈلز کا تکنیکی جائزہ لے رہی ہے تاکہ ان کی مو¿ثریت کا اندازہ لگایا جا سکے۔
جے-10 سی طیارہ چینگڈو ایئرکرافٹ کارپوریشن کا تیار کردہ 4.5 جنریشن فائٹر جیٹ ہے، جو جدید AESA ریڈار، PL-15 میزائلوں اور طاقتور انجن سے لیس ہے۔ فی الحال چین اور پاکستان اس طیارے کے آپریٹر ممالک ہیں۔ پاکستان نے 2020 میں 36 جے-10 سی طیارے خریدے تھے اور انہیں "معرکہ حق” کے دوران بھارت کے خلاف مو¿ثر انداز میں استعمال کیا گیا تھا۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا کا یہ فیصلہ خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرے گا اور ایشیا میں چینی ٹیکنالوجی کے اثر کو مزید بڑھا دے گا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان فضائیہ کی جانب سے 2025 کی بھارت-پاکستان کشیدگی کے دوران جے-10 سی کے مو¿ثر استعمال نے اس طیارے کی بین الاقوامی مانگ میں اضافہ کیا۔جے-10 سی کی شاندار کارکردگی نے چینی دفاعی صنعت کو نیا اعتماد دیا، جبکہ فرانسیسی ساختہ بھارتی رافیل طیارے اپنی ساکھ برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔




