اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کی جانب سے چناب اپ لنک ٹنل منصوبے کے لیے بولیاں طلب کرنے کی اطلاعات اور سرکاری دستاویزات پر تشویش کاا ظہارکیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ منصوبے کا مقصد سالانہ 19 لاکھ ایکڑ فٹ پانی دریائے چناب سے بیاس نظام میں منتقل کرنا ہے، دریائے چناب کے پانی کا دوسرے دریائی نظام میں رخ موڑنا سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے، یہ ڈیم منصوبہ بھارت کو پانی کے بہا ئوپر ایسا کنٹرول دے سکتا ہے جو سندھ طاس معاہدے کے تحت قابل قبول نہیں ہے۔بھارت کا یہ اقدام ویانا کنونشن اور بین الاقوامی آبی قوانین کے اصولوں سے بھی متصادم ہے۔طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بھارت نے ان منصوبوں سے متعلق نہ باضابطہ اطلاع دی اور نہ ہی پاکستان سے مشاورت کی، یہ منصوبے اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے اور بھارتی اقدامات پاکستان کی معیشت، غذائی تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے خطرناک نتائج کے حامل ہو سکتے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو مغربی دریائوں کے پانی کے غیر محدود استعمال کا حق حاصل ہے اور پاکستان اپنے آبی حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب آپشنز محفوظ رکھتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کی پرزور مذمت کرتا ہے، پاکستان سمیت 8عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجدِ اقصی میں اسرائیلی قابضین کی دراندازی کی مذمت کی ہے۔طاہر حسین اندرابی نے یہ بھی کہا کہ 8 ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے اشتعال انگیز اور غیرقانونی اقدامات فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے۔







