بھارتی مسلمان نمک حرام ہیں۔ بہار میں بی جے پی رہنمائوں کی نفرت انگیز سیاسی مہم

نئی دلی:ریاست بہار میں جاری ہندوتوا بھارتیہ جنتاپارٹی کی انتخابی مہم نے بھارت کے سیکولر چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بی جے پی ایک بار پھرانتخابات سے قبل نفرت اور مذہبی تعصب کی سیاست کررہی ہے اور مسلمانوں کو کھلے عام "نمک حرام”کہا جا رہا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بی جے پی کے مرکزی وزیر گیریراج سنگھ نے اپنے حالیہ بیان میں بھارتی مسلمانوں کو "نمک حرام” قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ مسلمان بی جے پی کی اسکیموں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، مگر ووٹ کسی اور کو دیتے ہیں، ہمیں ان کے ووٹ نہیں چاہئیں۔ ان بیانات کو نہ صرف فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی قرار دیا جا رہا ہے، بلکہ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہندوتوا بی جے پی اپنی ناقص کارکردگی اور معاشی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے نفرت کا سہارا لے رہی ہے اور ہندو اکثریت کے ووٹ کو نفرت کے نعروں سے خریدنا چاہتی ہے۔ اس سے قبل پونا میں بی جے پی کی راجیہ سبھا رکن مدھا کولکرنی نے شنیوار وڈا کے علاقے میں مسلمان خواتین کو نماز سے روکنے کے لیے علاقے میںگائے کے پیشاب کا چھڑکائوکرایاتھا۔ شدت پسند سیاسی رہنما پراگیا ٹھاکر نے ہندو والدین سے کہا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو، جو اپنے مذہب کے علاوہ شادی کرتی ہیں، تشدد کے ذریعے سزا دیں۔ یہ محض الگ تھلگ واقعات نہیں، بلکہ انتخابات سے قبل منصوبہ بندی کے ساتھ مذہبی شدت پسندی، نفرت، تعصب اور فرقہ وارانہ تقسیم کی سازش ہے۔ بہار میں 6اور 11نومبر کو ہونے والے انتخابات بی جے پی کے لیے ایک بڑی آزمائش ہیں۔ مودی سرکار آپریشن سندورمیں پاکستان کے ہاتھوں شرمناک شکست کو داخلی سیاست میں نفرت کے بیانیہ سے سیاسی جیت میں بدلنا چاہتی ہے۔ بھارتی مسلمان بی جے پی کے دبائو کے زیر اثر پاکستان مخالف بیانات دینے پر مجبور ہیں ۔ عرفان پٹھان، جاوید اختر ، سلیمان خان پاکستان مخالف بیان دیکر اپنی بھارتی ہونے کا ثبوت دینے پر مجبور ہیں۔ بھارت کی جمہوری تہذیب میں دراڑیں واضح ہیں۔ ریاستی طاقت مذہبی اکثریتی ایجنڈا نافذ کرنے کے لیے ہتھیار بن رہی ہے۔ اس سے قبل قائد حزب اختلاف راہول گاندھی بھی انتخابات میں الیکشن کمیشن اور بی جے پی کے گٹھ جوڑکو بے نقاب کر چکے ہیں ۔ بھارتی اپوزیشن ، انتخابی لسٹوں میں ہیر پھیر کو میڈیا کے سامنے لا چکی ہے۔بہار کے ریاستی انتخابات میں فتح کیلئے اقلیتی برادری کے ووٹوں کا کلیدی کردار ہے۔ نفرت کی سیاست سے بھارتی معاشرہ تباہی سے دوچار ہو رہا ہے۔





