27 اکتوبر: جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کی دردناک یادیں

سرینگر: تنازعہ جموں وکشمیر کا آغاز27کتوبر 1947 کواس وقت ہوا جب بھارت نے کشمیری عوام کی مرضی کے برخلاف علاقے پرزبردستی قبضہ جمالیا اور مسلسل بھارتی قبضے کی وجہ سے کشمیریوں کو بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس دن کی مناسبت سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا کہ اس دن کی تلخ یادیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے دل ودماغ میں آج بھی تازہ ہیں۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ یہ وہ منحوس دن ہے جب بھارتی فوج سرینگر پر اتری،ایک ایسا اقدام جس کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا۔ اس سے خطے میں ایک طویل اور ہنگامہ خیز دور کا آغاز ہواجو سات دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔کشمیری عوام کواس فوجی قبضے کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔مضمون میںکہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کے لیے مسلسل فوجی جارحیت کی مرتکب ہورہی ہے۔ 2019ء میںجموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والی دفعہ370کی منسوخی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کے لیے کرفیو اوردیگرسخت پابندی عائد کی گئی تھی۔مضمون میں کہاگیا کہ اس جارحیت سے نہ صرف لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوابلکہ مسلمانوں کے تاریخی مقامات کی بے حرمتی کی گئی جوثقافتی اور مذہبی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔مضمون میں کہا گیا کہ مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی زندگی کا ہر پہلو آر ایس ایس کی حمایت یافتہ مودی حکومت کے حملے کی زد میں ہے جو خطے میں مسلم شناخت کی ہر علامت کو مٹانے پر تلی ہوئی ہے۔ مودی حکومت کے 05 اگست 2019کے غیر قانونی اقدامات سے کشمیر کی تاریخ کے ایک اور سفاک باب کا آغاز ہوا۔ بھارت نے کشمیری عوام کو پسماندگی میں دھکیلنے کے لیے انتظامی، آبادیاتی اور انتخابی اقدامات کا ایک سلسلہ شروع کررکھا ہے تاکہ انہیں سیاسی، آئینی، ثقافتی طور پر بے اختیار کیا جائے۔مضمون میں کہا گیا کہ ہر بھارتی اقدام کا مقصد مقبوضہ جموں وکشمیرمیں مسلمانوں کی ثقافت، زبان اور مذہبی شناخت کو ختم کرنا ہے اوربھارت کے اقدامات مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی آبادکاری کی پالیسیوں کے آئینہ دارہیں۔ مضمون میں کہاگیاکہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوج، پولیس اور پیراملٹری فورسز کی طرف سے ماورائے عدالت قتل، گرفتاریوں اور تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ مضمون میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ نریندر مودی مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ہندوتوا نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کی ظالمانہ پالیسیوں سے بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے کے کشمیری مسلمانوں کے عزم کو مزید تقویت ملتی ہے۔





