اقوام متحدہ جموں و کشمیر میں استصواب رائے کرانے کا اپناوعدہ پورا کرے:فاروق رحمانی

اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیرشاخ کے سابق کنوینر محمد فاروق رحمانی نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی منظور شدہ قرارداد وں کے مطابق جموں و کشمیر میں استصواب رائے کرانے کا وعدہ پورا کرے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فاروق رحمانی نے جموں و کشمیر پر بھارت کے قبضے کو 78سال مکمل ہونے کے موقع پر ایک بیا ن میں کہا کہ کشمیری عوام سے کیے گئے وعدوں کو پوراکرنے میں ناکامی اقوام متحدہ کی ساکھ پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے لیکن بھارت نے علاقے میں بڑے پیمانے پر فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2019میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد بھارت نے ہزاروں غیر مقامی لوگوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کرکے اور بیرونی لوگوں کو مقبوضہ علاقے میں زمین اور جائیداد خریدنے کی اجازت دے کر آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام جیسے کالے قوانین کے تحت ہزاروں بے گناہ نوجوانوں کو جیلوں میں نظربند کیاگیا ہے، جبکہ سیاسی رہنمائوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جارہا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بہت سے کشمیری اپنی جان کو لاحق خطرات کی وجہ سے بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبورہوئے ہیں جبکہ کشمیری مسلمانوں کو چن چن کر نوکریوں سے برطرف کیا جارہا ہے اورمن گھڑت الزامات پر لوگوں کی جائیدادیں ضبط کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت فوجی طاقت کے بل پر جموں وکشمیر پر قابض ہے جومقامی باشندوں کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دے رہا ہے اور ان کی بنیادی آزادیاں سلب کررہا ہے۔فاروق رحمانی نے کہا کہ کالے قوانین کی آڑ میں لوگوں کی سخت نگرانی کی جارہی ہے، رشتہ داروں سے ان کا رابطہ منقطع کردیا گیا ہے جبکہ خفیہ ایجنسیاں مسلسل انہیں ہراساں کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں انسانی حقوق، خواتین کے حقوق اور سیاسی آزادیاں مسلسل خطرے میں ہیں اور بدعنوانی اور بدانتظامی اپنے عروج پر ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ بے اختیار ہے اور وہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کا دفاع کرنے سے قاصر ہے۔فاروق رحمانی نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیرپر بھارت کے مسلسل قبضے کا سنجیدہ نوٹس لے۔







