عالمی برادری تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے :حریت قیادت

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ آگے آئے اور مظلوم کشمیر عوام کو اپنے مادر وطن پر بھارت کا دہائیوں پرانا قبضہ ختم کرانے میں ان کی مدد کرے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارت گزشتہ 78 برسوں سے جموں و کشمیر کے ایک بڑے حصے پر غیر قانونی طور پر قابض ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری ہر سال دنیا بھر میں 27اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں تاکہ بھارت کے غیر قانونی قبضے کو مسترد کیا جائے اور مکمل آزادی تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا جا سکے ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں غلام محمد خان سوپوری، ایڈوکیٹ ارشد اقبال، حفیظہ فہمیدہ، مولانا مصعب ندوی، تحریک حریت جموں وکشمیر،مسلم کانفرنس اورپیپلز لیگ کے نمائندوں نے سرینگر میں اپنے الگ الگ بیانات میں کہا کہ کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد آزادی کو فوجی طاقت سے دبایا نہیں جا سکتا۔
دریں اثنا ء کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادجموں وکشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی، محمود احمد ساغر، محمد فاروق رحمانی، الطاف حسین وانی، شیخ عبدالمتین، شیخ یعقوب، سید فیض نقشبندی، سید یوسف نسیم، شمیم شال، مشتاق احمد بٹ، مشتاق احمد، سید گلشن اقبال، زاہد اشرف ، زاہدصفی ، الطاف احمد بٹ ، اعجاز رحمانی ،حاجی سلطان بٹ، شیخ ماجد، امتیاز وانی، عدیل وانی اور دیگر نے اپنے بیانات میں 27اکتوبر کو کشمیر کی جدید تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ 1947 میں آج ہی کے دن بھارت کی کھلی فوجی جارحیت تنازعہ کشمیر کی بنیادی وجہ بنی جس کے باعث سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی جنوبی ایشیا میں امن و استحکام خطرے سے دوچارہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں جن کی توثیق اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو سمیت بھارت کے نمائندوں نے بھی کی تھی، واضح طور پر جموں و کشمیر میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کا مطالبہ کرتی ہیں۔حریت رہنمائوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگوںکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تنازعہ کشمیر علاقائی اور عالمی امن کے لیے مستقل خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری بھارت کے طویل فوجی قبضے کا نوٹس لے اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔







