آغا سید حسن کاشالیمار سرینگر میں نوجوان کی گرفتاری پراظہارتشویش
گرفتاری کے خلاف لوگوں کا احتجاجی مظاہرہ ، فوری رہائی کا مطالبہ
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے شالیمار سرینگر کے نوجوان ارباز علی بٹ کی گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی جذبات اور مذہبی وابستگی کے اظہار کو جرم قرار دینا نہ صرف افسوسناک بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آغا سید حسن نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ ارباز علی بٹ کو گزشتہ روز ا±ن کے گھر سے اس بنیاد پر گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے 28 فروری کو ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر اظہار غم کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فرد کا اپنے مذہبی و روحانی رہنما سے عقیدت اور محبت کا اظہار کرنا ایک فطری اور جمہوری حق ہے جسے اس طرح کی کارروائیوں کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔انہوں نے نوجوان پرکالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کئے جانے کوتشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے اقدامات نوجوان نسل میں بے چینی اور اضطراب پیدا کرتے ہیں۔ آغا حسن نے قابض حکام سے مطالبہ کیاکہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ارباز علی بٹ کو فوری طورپر رہا کیا جائے۔
دریں اثناءشالیمار میں نوجوان کی گرفتاری کے خلاف مقامی لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قرار دیا۔ مظاہرین نے حکام سے مطالبہ کیا کہ نوجوان کو فوری طور رہا کیا جائے اور عوامی جذبات کا احترام کیا جائے۔








