آج معروف آزادی پسند کشمیری رہنما مقبول بٹ کی 42ویں برسی منائی جا رہی ہے

اسلام آباد: کنٹر ول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں رہنے والے کشمیری آج معروف آزادی پسند رہنما محمد مقبول بٹ کی شہادت کی 42ویں برسی اس عزم کی تجدید کے ساتھ منا رہے ہیں کہ وہ غیر قانونی بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد مقصد کے حصول تک جاری رکھیں گے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارت نے محمد مقبول بٹ کو جدوجہد آزاد ی میں سرگرم کردار کی پاداش میں 11 فروری 1984 کو نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں تختہ دار پر چڑھایا تھا اور انکا جسد خاکی ورثا کے حوالے کرنے کے بجائے جیل کے احاطے میں ہی دفن کر دیا تھا۔
محمد مقبول بٹ 18 فروری 1938ءکو مقبوضہ وادی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے علاقے تریہگام میں پیدا ہوئے تھے۔
وہ بھارتی تسلط کا شکار مظلوم کشمیریوں کی ایک توانا آواز تھے جس سے خوفزدہ ہو کر بھارت نے ایک جھوٹے مقدمے میں انہیں پھانسی دی ۔
کل جماعتی حریت کانفرنس اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ نے آج بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔
آزاد جموں وکشمیر ، پاکستان اور دنیا کے دیگر شہروں میں مقبول بٹ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے آج مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا۔
حریت کانفرنس کے رہنماﺅں نے شہید مقبول بٹ کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان جیسے شہداءتحریک آزادی کشمیر کا حقیقی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنے ان عظیم شہداءکے مشن کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔






