کینیڈا میں ایک اورسکھ رہنما کو گولی مارکرقتل کردیاگیا
اوٹاوا: کینیڈا میں سکھوں کے تحفظ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کے دوران ایک ممتازسکھ تاجر درشن سنگھ ساہسی کوسرے کے علاقے ایبٹس فورڈمیں ان کے گھر کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 68سالہ درشن سنگھ جو کینیڈا کی کپڑوں کی ری سائیکلنگ کی صنعت کی سرکردہ شخصیت تھے، کام پر روانہ ہونے والے تھے کہ نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔درشن سنگھ کا تعلق بھارتی ریاست پنجاب میں لدھیانہ کے علاقے ڈوراہا کے قریب راج گڑھ گائوں سے تھا اور برسوں پہلے کینیڈا ہجرت کر گئے تھے جہاں انہوں نے ری سائیکلنگ کا ایک کامیاب کاروبار قائم کیا جس میں درجنوں کارکنوں کو ملازمت دی گئی۔ وہ اپنی انسان دوستی اور سماجی خدمات کے لئے جانے جاتے تھے جو اکثر اپنے آبائی گائوں میں پسماندہ بچوں کے لیے تعلیم کے اخراجات اٹھاتے تھے۔ڈوراہا میں مقامی پولیس نے تصدیق کی کہ ساہسی کا خاندان حکام سے رابطے میں ہے۔ توقع ہے کہ ان کے بھائی اور بھتیجے آخری رسومات میں شرکت کے لیے کینیڈا جائیں گے۔راج گڑھ میں کمیونٹی رہنمائوں نے درشن سنگھ کے قتل پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں انسانیت کی خدمت کرنے والی شخصیت قراردیا۔یہ قتل جون 2023میں خالصتانی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا تسلسل لگتاہے جو کینیڈا میں سکھوں کے تحفظ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔





