ویبینار کے مقررین کا شہدائے جموں کو شاندار خراج عقیدت
جموں کے مسلمانوں کو صرف پاکستان کے ساتھ محبت کی سزا دی گئی، مقررین
اسلام آباد:
یوم شہدائے جموں کے موقع پرمنعقدہ ایک ویبینار کے مقررین نے شہدائے جموں کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا اور شہداکے مشن کو اسکے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کااعادہ کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ”یوم شہدائے جموں ۔قربانیوں کو یاد اور تجدید عزم کا دن”کے عنوان سے ویبینار کااہتمام کشمیر میڈیا سروس اور ریڈیو صدائے حریت کشمیر نے کیاتھا۔ ویبینار کے مقررین میں کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی ، سینئر حریت رہنماء محمد حسین خطیب، سابق وزیر آزاد کشمیرفرزانہ یعقوب،تحریک کشمیر برطانیہ کی سیکریٹری اطلاعات ایڈوکیٹ ریحانہ علی ، آزاد کشمیر یونیورسٹی مظفر آباد کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ کی لیکچرار مدیحہ شکیل اور سیالکوٹ میں مقیم کشمیری ڈاکٹر زاہد غنی ڈار شامل تھے ۔ کنوینر غلام محمد صفی نے اپنے خطاب میں کہاکہ کشمیریوں کے قتل عام کا سلسلہ جو نومبر 1947میں جموں میں شروع ہواتھا آج بھی جاری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی قابض فورسز آج بھی وادی کشمیرمیں بے گناہ کشمیریوں کو اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے پر انتقامی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوںکا نشانہ بنا رہے ہیں ،جس کا مقصد مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو بگاڑ نا ہے ۔ غلام محمد صفی نے شہدائے جموں کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا اور جدوجہد آزادی کشمیر کو اسکے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔حریت رہنماء محمد حسین خطیب نے کہاکہ نومبر 1947میں مسلمانوں کا قتل عام صرف سیالکوٹ اور جموں کے درمیان واقع علاقوں میںہی نہیں بلکہ جموں کے دوسرے علاقوںمیں بھی ڈوگرہ مہاراجہ کی فوج ،بھارتی فورسز اور ہندوانتہاپسندوں نے مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا۔انہوں نے کہاکہ ادھمپور میں آج بھی ایک قبرستان موجود ہے جس میں سانحہ جموں کے شہدا مدفون ہیں۔انہوں نے کہاکہ جموںکے مسلمانوںکو صرف پاکستان کے ساتھ محبت کی سزا دی گئی۔ فرزانہ یعقوب ،ایڈوکیٹ ریحانہ علی اور مدیحہ شکیل اپنے خطاب میں کہاکہ جموں وکشمیر کی تاریخ کشمیریوں کے قتل عام کے واقعات سے بھری ہوئی ہے تاہم سانحہ جموں وہ واحد واقعہ ہے جب لاکھوں کی تعداد میں کشمیری مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری مسلمانوں کے قتل عام کا سلسلہ 27اکتوبر 1947کو بھارتی فوج کے جموں و کشمیر پر قبضے کے اگلے ہی روزشروع ہوگیاتھا جب بھارتی فوجیوں نے سرینگر میں متعددنہتے کشمیریوں کو شہید کیاتھا۔ڈاکٹر زاہد غنی ڈار نے ،جن کے والدین جموں قتل عام کے دوران ہجرت کرکے سیالکوٹ میں آکر آباد ہوئے ، اس سانحہ کی واقعاتی شہادتیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس قتل عام میں ان کے اپنے خاندان سمیت بے شمار لوگوں کو شہید اورخواتین کی بے حرمتی کی گئی۔ویب نار کی میزبانی کے فرائض کشمیر میڈیا سروس کے ایڈیٹر ارشد میر نے اداکئے ۔انہوں نے کہاکہ سانحہ جموں پر گفتگوصرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ حال کا نوحہ اور مستقبل کے لیے ایک انتباہ ہے کہ اگر تاریخ کو فراموش کیا گیا تو ظلم اپنی شکل بدل کر بار بار لوٹتا رہے گا۔
واضح رہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ کی فورسز، بھارتی فوج اور ہندوتوا قوتوں نے نومبر 1947 کے پہلے ہفتے میں جموں کے مختلف علاقوں میں لاکھوں کشمیریوں کا اس وقت قتل عام کیا تھا جب وہ پاکستان کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔






