ہردیپ سنگھ نجر کا قتل، کینیڈ ا کو سب سے پہلے برطانیہ نے خفیہ معلومات فراہم کی تھیں، بلومبرگ
لندن:امریکی خبر رساں ادارے ”بلومبرگ “ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سب سے پہلے برطانیہ نے کینیڈا کی حکومت کوخالصتان حامی سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل اور امریکہ اور برطانیہ میں دو دیگر افراد کو نشانہ بنانے کی سازشوں کے سلسلے میں خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق،رپورٹ میں اس معاملے سے واقف لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ برطانوی انٹیلی جنس نے جولائی 2023 کے آخر میں کینیڈا کے ساتھ ایک فائل شیئر کی تھی جس میں برطانیہ کی سگنلز انٹیلی جنس ایجنسی، گورنمنٹ کمیونیکیشن ہیڈ کوارٹرز کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیلات تھیں۔ رپورٹ میں کہا گیایہ برطانیہ کی سگنلز انٹیلی جنس ایجنسی، گورنمنٹ کمیونیکیشن ہیڈ کوارٹر کے ذریعے ان افراد کے درمیان ہونے والی گفتگو کا خلاصہ اور تجزیہ تھا جن کے بارے میں برطانوی تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ وہ بھارتی حکومت کی جانب سے کام کر رہے تھے۔
اس گفتگو میں تین افراد کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا ۔ کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر، امریکہ میں پنون اور برطانیہ میں کھنڈا کو۔
نِجر کو جون 2023 میں مغربی کینیڈا میں ایک گردوارہ کے باہر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔ گر پتونت سنگھ پنون کو نیویارک میں نشانہ بنایا جانا تھا تاہم یہ سازش بے نقاب ہوگئی جبکہ کھنڈا کو برطانیہ میں گولی مار دی گئی۔
یاد رہے کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل اور نیویارک میں گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش سے متعلق حال ہی میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ملکی میڈیا کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی خفیہ اداروں کا خیال ہے کہ گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی منصوبہ بندی بھارت کی اعلیٰ ترین سطح پر کی گئی تھی۔
کینیڈین حکام نے بھی اپنی تحقیقات میں نتیجہ اخذ کیا کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے پیچھے بھارتی ریاستی عناصر ملوث تھے۔







