بھارت کے تعلیمی اداروں میں ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک
کیرالہ کی یونیورسٹی میں دلت اسکالر کی پی ایچ ڈی روک دی گئی
ترو اننتھا پورم: مودی کے بھارت میں ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے ایک اور واقعے میں کیرالہ یونیورسٹی میں سنسکرت ڈپارٹمنٹ کی ڈین ڈاکٹر سی این وجے کماری نے تمام رسمی تقاضوں کو پورا کرنے کے باوجود دلت ریسرچ اسکالر وپن وجین کی پی ایچ ڈی کی ڈگری کو روک دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وپن وجین نے جنہوں نے اسی پروفیسر کی نگرانی میں اپنی ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تحقیق مکمل کی، کہا کہ ڈین نے میری پی ایچ ڈی فائل کو منظوری کے لیے آگے بھیجنے سے انکار کر دیا اور میرے سنسکرت پڑھنے کے حق پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے ذات پات پر مبنی باتیں کیں۔وپن وجین نے ایک تفصیلی سوشل میڈیا بیان میں لکھا کہ یہ میرے لئے جذباتی طور پر تباہ کن اور تعلیمی لحاظ سے ذلت آمیزہے ۔ڈین نے مجھے بتایا کہ ایک پلیان یا پارائن کبھی بھی سنسکرت میں اس طرح مہارت حاصل نہیں کر سکتا جس طرح ایک برہمن کرتا ہے۔اسکالر نے کہا کہ اگرچہ ان کے مقالے” سدگوروسرواسم: اے اسٹڈی” کو وائس چانسلر کے ذریعہ مقرر کردہ دو بیرونی ممتحنوں نے منظور کیا تھا لیکن ڈین نے سرٹیفیکیشن کے حوالے سے اس کی حتمی منظوری کو روکتے ہوئے کہا کہ میںسنسکرت بولنے کے بھی اہل نہیں ہوں۔وجین نے کہا کہ ان کے پاس شری شنکراچاریہ یونیورسٹی اور خود کیرالہ یونیورسٹی سے سنسکرت میں پوسٹ گریجویٹ ڈگریاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ذات پات اور سیاسی تعصب اس رکاوٹ کا سبب بنا۔انہوں نے کہاکہ میں کبھی اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (SFI)کا رکن تھا جبکہ ڈاکٹر وجے کماری کھلے عام آر ایس ایس اوربی جے پی کے نظریے سے منسلک ہیں اور سنگھ سے وابستہ اساتذہ کی تنظیم کی رکن ہیں۔ اگر میں سیاسی طور پر متعصب ہوں تو ان سے سوال کیوں نہیں کیا جاتا؟ اسکالرنے کہا کہ ڈین نے میری فائل روک کر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ جب تین مستند ماہرین نے میری ڈگری کی سفارش کی ہے تو اس کومسترد کرنے کا کون سا اخلاقی یا قانونی جواز ہے؟انہوںنے کہاکہ ڈین کے تعصب نے میرا مستقبل تباہ کر دیا ہے۔ ایک دستخط نے میری برسوں کی محنت کو ختم کر دیا ہے۔اعلی تعلیم میں ذات پات کی بنیادپر امتیاز ی سلوک کے اسی طرح کے الزامات حال ہی میں بھارت بھر کی یونیورسٹیوں بشمول بنارس ہندو یونیورسٹی اور دہلی یونیورسٹی میں بھی سامنے آئے ہیں جہاں دلت اسکالرز نے کہاکہ انہیں سنسکرت اور کلاسیکی علوم کے شعبوں میں منظم تعصب کا سامنا ہے۔







