بھارتی حکومت اختلاف رائے کو دبانے کے لیے ٹیکنالوجی کو بطور ہتھیار استعمال کررہی ہے

اسلام آباد:آج جب دنیا بھر میں امن اور ترقی کے لیے سائنس کا عالمی دن منایا جارہا ہے، بھارت کی بی جے پی حکومت سیاسی اختلاف رائے رکھنے والوں، حزب اختلاف کے رہنمائوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی آوازوں کو دبانے کے لیے ٹیکنالوجی کو بطورہتھیار استعمال کررہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی ہندوتوا حکومت نے اختلافی آوازوں کو دبانے، لوگوں کے حقوق کوپامال کرنے اور آزادی اظہار کوروکنے کی غرض سے آن لائن مواد پر کنٹرول کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل نیوز سروسز اور ویڈیو اسٹریمنگ سائٹس کو نشانہ بنانے والے نئے انٹرنیٹ قوانین متعارف کرائے ہیں۔بھارت نے اگست 2023میں ایک قانون کی منظوری دی جس کے نتیجے میں ان پلیٹ فارمز پر حکام کی نگرانی بڑھ گئی۔ ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ 2023 (DPDPA) بھارتی حکام کو فرموں سے معلومات حاصل کرنے اور مواد کو بلاک کرنے کی ہدایات جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے۔انسانی حقوق کے گروپوں اور حزب اختلاف کے ارکان اسمبلی نے ڈی پی ڈی پی اے پر تنقید کی ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت پرامن احتجاج اور حکومت پر تنقید کو روکنے کے لیے دنیا میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ بند کرنے والا ملک ہے ۔ اس طرح اسے دنیا کا انٹرنیٹ شٹ ڈائون کیپیٹل کہا جاتا ہے۔بھارت 2018 کے بعد مسلسل پانچ سالوں تک ان ممالک کی عالمی فہرست میں سرفہرست رہا جنہوں نے اپنے شہریوں کے لیے انٹرنیٹ بند کردیا۔امریکی ڈیجیٹل رائٹس ایڈووکیسی گروپ
” Access Now”کے مطابق 2015اور 2022کے درمیان بھارتی حکام نے کم از کم 55,607ویب سائٹس، سوشل میڈیا پوسٹس اور اکائونٹس کو بلاک کیا۔2025میں بھارت نے حکومت پاکستان کے آفیشل ایکس(سابقہ ٹویٹر)اکائونٹ کے ساتھ ساتھ ماہرہ خان، ہانیہ عامر، علی ظفر اور فواد خان سمیت متعدد پاکستانی معروف شخصیات، اداکاروں اور فنکاروں کے انسٹاگرام اکائونٹس کو بلاک کر دیا۔کئی خبر رساں اداروں اور صحافیوں کے ایکس اکائونٹس بشمول رائٹرز نیوز ایجنسی کے دو ہینڈل (جنہیں بعد میں بحال کر دیا گیا)کو بھارتی حکومت نے بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔ دیگر متاثرہ اکائونٹس میں مکتوب میڈیا، کشمیریت اور فری پریس کشمیر شامل ہیں۔بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بی جے پی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں، مظالم اور بھارتی ریاستی دہشت گردی پر تنقید کرنے والے سوشل میڈیا اکائونٹس کو بلاک کرنے کے احکامات جاری کیے۔ صرف 2024 میں مختلف وجوہات کی بنا پرایکس ، فیس بک اورانسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز کے8,821اکائونٹس بلاک کیے گئے تھے۔2024 کے کسانوں کے احتجاج کے دوران تقریبا 177 سوشل میڈیا اکائونٹس اور ویب لنکس کو بلاک کر دیا گیا تھا۔ کشمیر میڈیا سروس، پی ٹی وی، ڈان نیوز، جیو ٹی وی، سماء ٹی وی اور بول نیوز سمیت پاکستانی اخبارات اور نیوز چینلز کو بھارت میں بلاک کر دیا گیا ۔ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے مطالبے پر متعدد پاکستانی یوٹیوب چینلز کو بھی بلاک کر دیا گیا۔کچھ آزاد تحقیقی اداروں اور نیوز پورٹلز جیسے کہ ہندوتوا واچ، بولتا ہندوستان اور قومی دستک کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکائونٹس کو بھی بی جے پی حکومت نے بلاک کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں اور ایکس جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے پریس سنسرشپ اور آزادی اظہار پر پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان احکامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیرمیں انٹرنیٹ کی بندش کے بارے میں روزنامہ کشمیر ٹائمز کی ایڈیٹر انورادھا بھسین نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ یہ علاقے میں ایک نیا معمول بن چکا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے دیکھا کہ جب حکومت نے 2019میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا تو کیا ہوا: خطے میں سب سے طویل انٹرنیٹ بلیک آئوٹ دیکھا گیا جو کئی مہینوں تک جاری رہا۔ یہ اب کوئی خبر نہیں ہے اور لوگ اس صورتحال کے عادی ہونے پر مجبور ہو ئے ہیں۔ اگست 2019کے بعدمقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو بے مثال جبر اورکئی طرح کی نگرانی کا سامنا کرنا پڑا۔ کشمیری عوام کو روزانہ کی بنیاد پر چوکیوں، کام کی جگہوں اور سوشل میڈیا پر قابض حکام کی ڈیجیٹل نگرانی کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ بھارتی فورسز کے اہلکار کشمیریوں کی سرگرمیوں پر نظررکھنے کے لیے ان کے موبائل فون ضبط کرتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں قابض حکومت نے کشمیری عوام کی روزمرہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے اپنی پولیس کو جی پی ایس ٹریکر سے لیس کیا۔






