علاقائی کشیدگی کے دوران چین کی سرحد کے قریب بھارت کی جنگی مشقیں

نئی دہلی:بھارت نے متنازعہ اروناچل پردیش کے بلند بالا پہاڑی علاقوں میں فوجی مشقیں کیں جن میں نئے قائم کئے گئے جارحانہ دستوں کی توثیق کی گئی ہے اور بڑھتے ہوئے علاقائی کشیدگی کے دوران جنگ لڑنے کے جدید طریقے آزمائے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنگی مشق جس کا کوڈ نام ”پوروی پراچند پراہار”ہے، چین کے ساتھ لگنے والی لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی)کے قریب منعقدکی گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مشق پاکستان کے ساتھ جھڑپوں اور چین کے ساتھ مسلسل تعطل کے بعدنئی دہلی کی جانب سے متنازعہ علاقوں میں بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی اور اس کی جارحانہ پیش قدمی کا اشارہ ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مشق کے دوران 7سے10مئی کے درمیان پاکستان کے ساتھ جھڑپوں کے بعد آپریشن سندور کے بعدقائم کئے گئے تین نئے جارحانہ عناصر کا تجربہ کیا گیا۔ ان میں بھیرو بٹالین، دیویاسترا آرٹلری بیٹریاں اور اشنی ڈرون اسٹرائیک پلاٹون شامل ہیں۔ایک بھیرو بٹالین تقریبا 250اہلکاروں پر مشتمل ہے جس میں انفنٹری، آرٹلری، ایئر ڈیفنس اور سگنلز کے ماہرشامل ہیں جنہیں تیزی سے کارروائی کے لیے مربوط حملہ کرنے والی ٹیموں کے طور پرتیار کیا گیا ہے۔ دیویاسترابیٹری طویل فاصلے تک مار کرنے والی بندوقوں کو نگرانی کے ڈرون، متحرک اسلحے اور اینٹی ڈرون ہتھیار کے ساتھ جوڑتی ہے جب کہ اشنی یونٹس ہر انفنٹری بٹالین کو درست حملوں کے لیے کامیکاز ڈرون فراہم کرتے ہیں۔ حساس سرحدوں پر یہ صلاحیت بھارتی کمانڈروں کے پاس پہلے نہیں تھی۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ان صلاحیتوں کوکمانڈنگ یونٹس، حملہ آور ہیلی کاپٹروں اور بھارتی فضائیہ کے پلیٹ فارمز کے ساتھ میدان میں اتارا گیا تھاتاکہ ٹیکنالوجی سے لیس میدان جنگ فراہم کیاجائے۔اسٹریٹجک مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی مغربی اور شمالی سرحدوں پر تیزی سے فوجی تعیناتی بڑھا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا نئی دہلی کو جنگی مشقوں میں بھاری سرمایہ کاری کرنے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جمہوری حقوق اور شہری آزادیوں کو دبانے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے ساتھ حل طلب سرحدی تنازعات کے درمیان ہونے والی یہ متواتر مشقیں علاقائی عدم استحکام کو بڑھاتی ہیں اور جنوبی ایشیا میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارت کاری کے بجائے فوجی طرز عمل پر بھارت کے بڑھتے ہوئے انحصار کی عکاسی کرتی ہیں۔






