لال قلعہ دھماکہ کیس میں بھارت کا دہشت گردی کا بیانیہ بے نقاب
اسلام آباد: نومبر 2025کے لال قلعہ دھماکہ کیس سے ایک بار پھر واضح ہوگیاہے کہ بھارتی ایجنسیاں کس طرح تاخیر سے ایف آئی آردرج کرکے اورمن گھرت دستاویزات تیارکرکے دہشت گردی کی جھوٹی کہانیاں گھڑرہی ہیں اور اقلیتوں کو بدنام کرنے اوربھارتی پروپیگنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کالے قوانین کا غلط استعمال کرتی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی میڈیا کی ابتدائی رپورٹس میں واقعے کو سی این جی سلنڈر دھماکہ کہاگیاتھا لیکن چند گھنٹوں کے اندرحکام نے اسے دہشت گرد حملے کا نام دیا۔ یہ ایک ایسی تبدیلی تھی جو ثبوت کی بنیاد پر نہیں بلکہ احتیاط سے کی گئی ہیرا پھیری کا نتیجہ تھی ۔کے ایم ایس کے پاس دستیاب تفصیلات کے مطابق ایف آئی آر میں ایسے واضح تضادات موجود ہیں جو ادارہ جاتی بددیانتی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔قریب ترین تھانہ جائے وقوعہ سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہونے کے باوجود بھارتی پولیس نے ایف آئی آر سات گھنٹے کی تاخیر سے درج کی۔ دھماکہ 10نومبر کو شام 6:50پر ہوا، لیکن ایف آئی آر 11نومبر کی صبح 2:00بجے درج کی گئی جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے بجائے سیاسی بیانیہ تیارکرنے میں وقت صرف کیا گیا۔ایف آئی آر میں متضاد تاریخیں ہیں، ڈیجیٹل ریکارڈ میں 10نومبر دکھایا گیا ہے، حالانکہ تحریری رپورٹ اگلے دن 0200بجے بھیجی گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تضادات کو کلرکل غلطی نہیں کہاجاسکتابلکہ یہ پہلے سے طے شدہ کہانی کو تقویت دینے کے لیے تیار کی گئی دستاویز کی عکاسی ہے۔ایک گنجان آباد علاقے میں واقع پیش آنے کے باوجود کوئی شہری شکایت کرنے والا سامنے نہیں آیا۔ اس کے بجائے ایک پولیس افسر ایس آئی ونود نین نے خود ایف آئی آر درج کرائی جس طرح حقیقی گواہوں کی عدم موجودگی میں من گھڑت کیس بنائے جاتے ہیں ۔ایف آئی آر کی زبان سے جان بوجھ کر خوف ودہشت پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں دعویٰ کیاگیاہے کہ اس واقعے کا مقصد خوف ودہشت کا ماحول پیدا کرنا تھا حالانکہ اس وقت کوئی ثبوت یا فرانزک نتائج دستیاب نہیں تھے۔ رپورٹ میں اعتراف کیاگیا ہے کہ فرانزک ٹیمیں صرف جائے وقوعہ پرموجود تھیں لیکن کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا۔اہم بات یہ ہے کہ ایف آئی آر دھماکے کے تمام سائنسی مظاہر پر خاموش ہے،نہ کوئی گڑھا،نہ کوئی کیمیائی باقیات اور نہ دھماکے کے نشانات پائے گئے، جو بھارتی بیانیے کے بالکل برعکس ہے کہ دھماکہ خیز مواداستعمال کیا گیاہے۔ ایف آئی آر میں کہاگیاکہ صرف گاڑی کا اگلا حصہ جل گیا ہے جو مکینیکل خرابی سے مطابقت رکھتا ہے نہ کہ کوئی نصب شدہ مواد جس کے بارے میں بھارت کا دعوی ہے کہ وہ ٹرنک میں تھا۔بھارتی پولیس نے فرانزک تصدیق سے پہلے ہی کیس میں یواے پی اے کی شقیں شامل کرلیں جوایک حادثے کو دہشت گردی کی سازش میں تبدیل کرنے کے بدنیتی پر مبنی عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، اقوام متحدہ کے ماہرین اوردیگر عالمی اداروںنے بار بار کہا ہے کہ بھارت میں کس طرح یو اے پی اے کو اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور سیاسی مقدمات بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔دھماکہ خیز مواد کی باقیات کی عدم موجودگی کے باوجود بھارتی حکام نے بھارتیہ نیا ئے سنہتا اور دھماکہ خیز موادایکٹ کی شقین بھی شامل کرلیںجس سے دہشت گردی کی کسی بھی علامت کے بغیرواقعے کے گرد من گھڑت قانونی شکنجا کساگیا۔کشمیر میڈیا سروس کا کہنا ہے کہ لال قلعہ کیس بھارت میں بار بار دہرائی گئی کہانیوں کی ایک اورکڑی ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقاتی اداروں کے طورپر نہیں بلکہ بیانیہ گھڑنے والے یونٹوں کے طور پر کام کرتے ہیں جو تاریخوں میں ہیرا پھیری کرتے ہیں، پولیس کے زیر اثر ایف آئی آر درج کرتے ہیں، بغیرکسی ثبوت کے دہشت گردی کے قوانین لاگو کرتے ہیں اور خوف و ہراس پھیلانے کے لیے قانونی فریم ورک کو ہتھیار بناتے اور مختلف مذاہب کے لوگوں کو بدنام کرتے ہیں۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ نومبر 2025کا کیس اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ بھارت کس طرح اپنے سیاسی اہداف کے حصول، جابرانہ اقدامات کا جواز پیش کرنے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بین الاقوامی توجہ ہٹانے کے لئے دہشت گردی کی سازشیں تیارکرتا ہے۔







