لداخ

لداخ کے لوگوں کا نئی صنعتی پالیسی پر اظہارتشویش

WhatsApp-Image-2023-11-06-at-16.33.15-aspect-ratio-2-1-600x300-c-defaultسرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں لداخ خطے کے مقامی لوگوں نے قابض انتظامیہ کی طرف سے متعارف کرائی گئی نئی صنعتی پالیسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مقامی نمائندوںکی رضامندی کے بغیر بنائی گئی ہے اور اس سے خطے کا نازک ماحولیاتی توازن مزید خطرے سے دوچار ہوگا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پیپلز موومنٹ فار دی سکستھ شیڈول فار لداخ نے نئی وضع کردہ لداخ انڈسٹریل لینڈ الاٹمنٹ پالیسی 2023 پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس میں لداخ خود مختار پہاڑی کونسل کو نظر انداز کیاگیا ہے۔مقامی لوگوں کا کہناہے کہ ہماری مخالفت کے باوجود لداخ کے محکمہ صنعت و تجارت نے پالیسی جاری کی اور خطے کو بڑی صنعتوں کے لئے کھول دیاجس سے خطے اور اس کے لوگ خطرے سے دوچارہونگے۔گروپ کے ایک بیان کے مطابق سیاسی ، سماجی اور مذہبی تنظیموں کے ایک مشترکہ پلیٹ فارم” ایپکس باڈی لہہ” کے ارکان نے جو دفعہ 370کی منسوخی کے بعد علاقے کے لیے چھٹے شیڈول کی وکالت کے لیے تشکیل دیا گیا ہے ، ایک اجلاس کیا جس میں پالیسی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بیان میں کہاگیاکہ اگر ضرورت پڑی تو لداخ کے لوگوں کی خواہش کے مطابق صنعتی اراضی الاٹمنٹ پالیسی 2023میں ترامیم 9نومبر 2023 تک انتظامیہ کو پیش کی جائیں گی۔ بیان میں کہاگیاکہ صنعتی پالیسی میں لداخ کے مفادات اور بہبود کو مدنظر رکھناضروری ہے۔ مقامی حکومت کو فیصلہ سازی کے عمل میں تمام متعلقہ فریقوں کو شامل کرنا چاہیے تاکہ لداخ میں صنعتی ترقی کے لیے زیادہ متوازن اور مساوی نقطہ نظر کو یقینی بنایا جا سکے۔ممتاز سیاسی کارکن سجاد کرگلی نے جو کرگل ڈیموکریٹک الائنس (KDA) کے رکن بھی ہیں، کہا کہ نئی پالیسی نے خطے کے نازک ماحولیاتی توازن اورمقامی ثقافتی شناخت کے لیے خطرہ پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ لداخ کے لوگوں کی رضامندی کے بغیر اس مسودے کو متعارف کرانا غیر جمہوری اور باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہاکہ لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسلز (LAHDCs)کی رائے کو نظرانداز کرنا لداخ کے لوگوں کوبے اختیار کرنے کے مترادف ہے۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d