آر ایس ایس نے ہندوتوا نیٹ ورکس کوبیرون ملک تک پھیلانے کیلئے امریکی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کر لیں
اسلام آباد:
مودی کی بھارتی حکومت کی نظریاتی سرپرست ہندو انتہاپسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے رواں سال جنوری میں امریکی اراکین کانگریس پر اثر انداز ہونے کیلئے معروف امریکی لابنگ فرم اسکوائر پیٹن بوگس کی خدمات حاصل کی ہیں ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہندوتوا تنظیم آر ایس ایس نے بھارت امریکہ تعلقات کو بہتر بنانے اورہندوتوا نیٹ ورکس کوبیرون ملک تک پھیلانے کی غرض سے امریکی اراکین پارلیمنٹ پر اثر انداز ہونے کیلئے لابنگ فرم اسکوائر پیٹن بوگس کو تین لاکھ 30ہزار ڈالر دئے ہیں ۔تاہم تشویش امر یہ ہے کہ یہ امریکہ میں آر ایس ایس کی طرف سے لابنگ کے ذریعے ہندو قوم پرستی کا اثر و رسوخ بڑھانے کی پہلی باضابطہ کوشش ہے ۔ امریکی لابنگ ڈسکلوزر ایکٹ کے تحت لابنگ کی رجسٹریشن، زیادہ شفاف فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ کے تحت نہیں کی گئی ہے جس سے ہندوتوا تنظیم کی اس مہم کی غیر شفافیت اور مذموم عزائم پر سوالات اٹھ گئے ہیں ۔لابنگ مہم کا آغاز آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر کیاگیا ہے، جو ہندوتوا نیٹ ورکس کو بین الاقوامی سطح پر پھیلانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ یہ اقدام امریکہ میں قائم ہندوتوا تنظیموںبشمول کونسل آف ہندوز آف نارتھ امریکہ، ہندو سویم سیوک سنگھ اور ہندو امریکن فائونڈیشن کی طرف سے کیاگیاہے جو ہندو توا نیٹ ورکس کا دائرہ کار دنیا بھر میں پھیلانے کی ایک کوشش ہے ۔رواں سال جون میں کانگریس مین بل شوسٹر، پالیسی امور کے ماہر باب شوسٹر، غیر ملکی امور کے ماہر برڈ فورڈ ایلیسن، سکالر والٹر رسل میڈ اور ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے بل ڈریکسٹل سمیت امریکی مہمانوں نے ناغپور میں آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹرز کادورہ کیاتھا۔جوآر ایس ایس کی عالمی سطح پر ہندو قوم پرستی کے نظریے بیرون ملک برآمد کرنے کے مذموم منصوبے کا حصہ ہے ۔







