قابض حکام مقبوضہ جموں وکشمیر کی جیلوں میں سیاسی قیدیوں کو ہراساں کررہے ہیں

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں قابض حکام نے بنیاد پرستی کو روکنے کی آڑ میں جیلوں میں ظالمانہ اقدامات اورکشمیری نظربندوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ تیز کردیا ہے اوران کی نگرانی مزید سخت کردی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنوں کہنا ہے کہ یہ اقدامات سیاسی اختلاف کو دبانے اور مزاحمت کو جرم قراردینے کی وسیع تر بھارتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ قابض حکام نے کشمیری اور غیر ملکی قیدیوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا شروع کردیا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے کشمیری سیاسی قیدیوں کو نشانہ بنایا جارہاہے۔بھارتی ایجنسیوں نے جیلوں کے اندر اچانک چھاپوں اورتلاشی کارروائیوں،گشت اورنگرانی کا سلسلہ تیز کردیا ہے جبکہ اشیائے ضروریہ فراہم کرنے والے دکانداروں کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔کشمیری سول سوسائٹی نے نئے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں جیلوں کو طویل عرصے سے ہراساں کرنے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کشمیریوں کی سیاسی آواز دبانے کے لیے بھارت کی نئی حکمت عملی کی نشاندہی کرتے ہیں اور اختلاف رائے کو بین الاقوامی برادری کے سامنے دہشت گردی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس طرح کے اقدامات سے قیدیوں اور ان کے اہل خانہ میں خوف ودہشت پھیل رہاہے اور انصاف کی راہیں مزید مسدود ہورہی ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی کارکنوں سمیت کشمیری قیدیوں کے انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزی جاری ہے جس سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں اجتماعی سزا کی قابض حکام کی وسیع تر پالیسی کی عکاسی ہوتی ہے۔





