ایپل کا بھارتی حکومت کی سیفٹی ایپ کو اپنی ڈیوائسز میں انسٹال کرنے سے انکار
نئی دہلی:امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے بھارت کی جانب سے اس حکم پر عمل کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کے تحت تمام اسمارٹ فون کمپنیوں کو ریاستی ملکیت کے سائبر سیفٹی ایپ سنجھر ساتھی کو فونز میں پری لوڈ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق رائٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہاہے کہ بھارتی حکومت نے خفیہ طور پر ایپل، سام سنگ، شیامی سمیت متعدد کمپنیوں کو 90دن کے اندر اندر اس ایپ کو فونز میں انسٹال کرنے کا حکم دیا ہے۔بھارتی حکومت کا موقف ہے کہ یہ ایپ چوری شدہ موبائل فونز کو ٹریک کرنے، بلاک کرنے اور ان کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔حکومتی ہدایات کے مطابق نہ صرف نئے فون بلکہ اسٹاک میں موجود تمام ڈیوائسز میں بھی سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے ذریعے ایپ انسٹال کی جائے، جبکہ صارفین اسے فون سے ڈیلیٹ بھی نہیں کر سکتے۔تاہم ایپل نے واضح کیا ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسے حکومتی احکامات نہیں مانتا کیونکہ یہ iOSنظام کی سیکیورٹی اور صارفین کی پرائیویسی کے لیے خطرہ ہیں۔ کمپنی حکام جلد حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کریں گے۔بھارتی اپوزیشن جماعتوں اور حق رازداری کے حامی اداروں نے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حکومت کو 73کروڑ بھارتی اسمارٹ فون صارفین تک رسائی دینے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق یہ ایپ شہریوں پر نگرانی بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔سام سنگ اور دیگر کمپنیوں نے بھی حکومتی احکامات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔






