پاکستان

بی جے پی کا ہندو توا ایجنڈہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ، مقررین

اسلام آباد:  سیاسی رہنماﺅں، ماہرین تعلیم اور حقوق کے علمبرداروں نے بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کی بھارتی حکومت کی طرف سے جاری ہندوتوا ایجنڈے کو جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے پاکستان، کشمیری قیادت اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسکے خلاف ایک مربوط اور جامع حکمت عملی ترتیب دیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انہوںنے ان خیالات کا اظہار” کشمیر میڈیا سروس اور یونائیٹڈ کشمیر جرنلسٹس ایسوسی ایشن“ کے زیر اہتمام ”کشمیر میں بی جے پی کا ہندوتوا ایجنڈا: جنوبی ایشیائی امن کے لیے سنگین خطرہ“ کے عنوان سے منعقدہ ایک ویبینار کے دوران کیا ۔ سیمینار کی نظامت سینئر صحافی ڈاکٹر محمد اشرف وانی اور کشمیری کارکن رئیس احمد میر نے کی۔
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے سابق امیر عبدالرشید ترابی نے کہا کہ مقوضہ جموں وکشمیر کے علماءکو بھارتی جبر کے خلاف متحد ہو کر ایک جاندار آواز بلند کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کے بیس کیمپ آزاد جموں و کشمیر کو سیاسی اور ادارہ جاتی طور پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کشمیری عوام کی جدوجہد کی موثر حمایت کی جا سکے۔
آزاد جموں و کشمیر کی سابق وزیر فرزانہ یعقوب نے مقبوضہ جموں وکشمیر میںجاری جبر اور آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال کے درمیان واضح فرق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں ایک انتہائی خطرناک منصوبے پر عمل پیرا ہے اور وہ مسلمانوں کی شناخت ،تہذیب و تمدن کو مٹانے کے در پے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں لوگوں کے روزمرہ کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے آٹھنے والی کسی بھی آواز کا مقبوضہ علاقے کی صورتحال سے ہرگز موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوںنے کہا کہ آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی سے جہاں پاکستان کے عالمی وقار میں اضافہ ہوا وہیں تنازعہ کشمیرکو بھی ایک نئی توانائی ملی۔ فرزانہ یعقوب نے کہا کہ ہمیں مقبوضہ علاقے میں جاری بھارتی ریشہ دوانیوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کے لیے اپنی کوششوں میں تیزی لانا ہوگی۔
کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کی رہنما شمیم شال نے کہا کہ بیس کیمپ کو کشمیر کاز کے لیے اپنے کردار کو مزید توانا و مضبوط بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بھارت جبر و ستم اور معاشی دباو¿ کے باوجود کشمیریوں کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں اظہار رائے کی آزادی کا حق مکمل طور پر سلب کررکھا ہے لہذا ہمیں اپنے محکوم بہن بھائیوں کی بھر پور ترجمانی کرنا ہو گی۔


پروفیسر مدیحہ شکیل نے ہندوتوا نظریے کا ایک تجزیاتی جائزہ پیش کرتے ہوئے اسے ریاست کی مرکزیت، آبادیاتی تبدیلی اور ثقافتی تسلط کے مقصد کے لیے ایک منصوبے کے طور پر بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے کو مکمل طور پر ہندو توا رنگ میں رنگنے کے ایک مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے رہنما سید فیض نقشبندی نے خبردار کیا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں آبادیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ایک ثقافتی یلغارکر رہا ہے جس کا مقصد کشمیریوں کو ان کے اپنے ہی وطن میں اجنبی بنانا ہے۔
جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کی چیئرپرسن نبیلہ ارشاد خان نے ہمیں مقبوضہ علاقے میں جاری بھارتی جبر کا پردہ چاک کرنے کیلئے ہر پلیٹ فارم کو برائے کار لانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وکلا ءکا کردار بھی اہم ہے ۔ویبنار سے ماہر تعلیم ڈکٹر عبدالباسط ،آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس ویمن ونگ کی چیئرپرسن سمیعہ ساجد ، حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے رہنما شیخ عبدالمتین اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔انہوںنے مقبوضہ علاقے میں جاری بھارتی جبر واستبداد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ جموں وکشمیر کے بارے میں اپنی قرار دادوں پرعملدرآمد کے لیے کردار ادا کرے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button