مقبوضہ جموں وکشمیر :ضلع بارہمولہ میں بھارتی فورسز کی محاصرے اورتلاشی کی کارروائیاں
لال قلعہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والے کشمیری کے جنازے میں سینکڑوں افراد کی شرکت

سرینگر19نومبر(کے ایم ایس)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فورسز نے ضلع بارہمولہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج اور پیراملٹری بارڈر سیکورٹی فورس کے اہلکاروں نے اوڑی سمیت مختلف علاقوں میں محاصرے اورتلاشی کی کارروائیاں کیں۔بھارتی فوج کے حکام نے بتایا کہ یہ کارروائیاںکنٹرول لائن کے قریب اوڑی میں مشکوک نقل و حرکت دیکھنے کے بعدشروع کی گئیں۔تاہم آخری اطلاعات آنے تک کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ضلع کے علاقے ٹاپر کریری میں بھارتی پیراملٹری سشاستراسیما بل اورپولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ نے محاصرے اور تلاشی کی ایک اور کارروائی میں ایک چینی ساختہ گرینیڈ برآمد کرنے کا دعوی کیا۔بھارتی پولیس اور پیراملٹری فورسز نے جموں کی کوٹ بھلوال جیل پر بھی چھاپے مارے جہاں سینکڑوں قیدیوں سے پوچھ گچھ کی گئی۔ جیل میں اس وقت حریت رہنمائوں اور کارکنوں سمیت 600 سے زائد قیدی بند ہیں۔
دریں اثناء دہلی کے لال قلعہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والے کشمیری مزدور 27سالہ بلال احمد سانگو کی نماز جنازہ میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ضلع گاندربل میں کنگن کے علاقے بابا نگری وانگت سے تعلق رکھنے والے بلال کی میت بدھ کو ان کے آبائی گائوں لائی گئی۔وہ 2019سے دہلی میں کام کر رہا تھا جو دھماکے میں ہلاک ہونے والے تیرہ افراد میں شامل تھا۔ انہیں ان کے آبائی قبرستان وانگت میں سپرد خاک کیا گیا۔
ادھر ضلع بارہمولہ کے علاقے ٹنگمرگ میں محکمہ جنگلات کے دفتر میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جو تیزی سے پھیل گئی۔ آگ کئی گھنٹوں تک جاری رہی جس سے دفتر کے فرنیچراوردستاویزات کو شدیدنقصان پہنچاتاہم کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔






